مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے
بیٹی اللہ کی رحمت... مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے۔ نرس نے کمرے سے باہر آتے ہی اعلان کیا۔ اقبال کا دل ڈوب سا گیا۔ وہ اوپر سے ہشاش بشاش دکھائی دینے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کے اندر جیسے اندھیرا سا چھا گیا تھا۔ یہ تیسری لڑکی تھی۔ اسے بیٹے کی شدید خواہش تھ ی۔ دل ہی دل میں وہ سوچ رہا تھا ایک بیٹا ہوتا تو کم از کم بڑھاپا تو سکون سے گذر جاتا۔ وہ رو رو کر اللہ سے دعائیں مانگتا تھا کہ اس کے ہاں نرینہ اولاد ہو۔ کبھی کسی نیک آدمی سے ملتا تو اسے بھی اسی دعا کے لیے کہتا۔ آخر اللہ نے اسکی سن لی۔ دو سال بعد اس کے ہاں چاند سا بیٹا پیدا ہوا۔ جسکا نام اس نے جمال رکھا۔ اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ ساری دنیا جیسے اسکے لیے رنگین ہو گئی تھی۔ گو کہ اس کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا لیکن پھر بھی اپنی ہستی کے مطابق اس نے خوب جشن منایا۔ ماہ و سال گذرتے رہے۔ لڑکیوں اور جمال کے معاملے میں ہر ہر بات میں اقبال کا رویہ نہایت غیر منصفانہ رہا۔ بچیوں کو اس نے بس واجبی سی تعلیم دلوائی جبکہ لڑکے کو اعلٰی سے اعلٰی سکولوں میں۔ بڑھاپے کا سہارا جو بننا تھا اس نے۔ لڑکیاں بس عام سی زندگی گ...