Posts

Showing posts from February 3, 2023

کیسی تقسیم تھی ،سب ایک ہی گھر کے نکلے تیرے دربار سے جو جھولیاں بھر کے نکلے

Image
غزل کیسی تقسیم تھی ،سب ایک ہی گھر کے نکلے تیرے دربار سے جو جھولیاں بھر کے نکلے جن کی دستار کو میں چوم لیا کرتا تھا وقت بدلا تو وہ دشمن مرے سر کے نکلے ہم کو درکار تھی چھاؤں سو عطا کی اس نے بعد میں لاکھ بھلے شجرے شجر کے نکلے بکھری زلفوں سے چھپاتے ہوۓ چہروں کے نقوش گدڑیوں والے حسیں چاند نگر کے نکلے بد دعا دیتے ہوۓ اشک بہاتا تھا بہت ہم ترے شہر کے مجذوب سے ڈر کے نکلے ہاۓ وہ لوگ کفن کا جنہیں ٹکڑا نہ ملا ہاۓ وہ لوگ جو زندان سے مر کے نکلے تخلیہ ارشاد عرؔشی ملک معاملاتِ مکر و فن کےشاہکارو، تخلیہ حُکم ہے درویش کا، اے تاجدارو ، تخلیہ خواہشِ نام آوری نے باؤلا تم کو کیا خود ستائی سے بھرے ،ہلکے غبارو ، تخلیہ ہم کو آتی ہے تمہارے کوڑھ باطن سے بساند دِین کے جُبے میں لپِٹے وضعدارو ، تخلیہ سادہ و ناداں سہی پر بے حِس و غاصب نہیں تم پہ رونا ہے ہمیں ،اے ہوشیارو ، تخلیہ ہم کو ملنا ہے خزاں رُت کے سُلگتے کرب سے آج دل حاضر نہیں ،مہکی بہارو ، تخلیہ آج ہم شب بھر پئیں گے عشق ِ مولا کی شراب اے امامو،  ناصحو،  پرہیز گارو  ، تخلیہ ہم کو اپنی بے بسی، بے اختیاری ہے عزیز تم سے کچھ حاجت نہیں ،با اختیارو ، ت...

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کا عظیم مقام ہے، وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں

Image
*حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا:*  حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کا عظیم مقام ہے، وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا سے بےحد محبت تھی، مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ بہت عرصہ بعد عہد نبوت میں ایک بوڑھی عورت آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں، غربت و افلاس سے ان کا حال دگرگوں تھا، آپ نے فوراً پہچان لیا اور وفور شوق و محبت سے اپنی نشست سے اٹھے اور "میری ماں، میری ماں" کہہ کر ان سے لپٹ گئے، پھر آپ نے چادر بچھا کر عزت و تکریم سے ان کو اس پر بٹھایا، یہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ روایت بھی تاریخ میں منقول ہے کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور جوانی میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں مکے حاضر ہوئی تھیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کی خدمت میں کئی اونٹ اور اونٹنیاں پیش کی تھیں۔ مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریوں کا ایک ریوڑ اور سازو سامان سے لدی ایک ناقہ ان کی خدمت میں پیش کی، وہ ان تحائف سے زیادہ اس بات پر شاداں...

اور اب یہ انسان یہ نادان انسان رب کی آغوش میں اپنا آپ سونپنے کے سوا اور کہیں راحت نہ پائے گا

Image
🔘 *اللّه محبت ہے*✨✨ قسط نمبر (⋟•••• 35 🪶تحریر : حیا ایشم اللّه محبت ہے، اللّه حقیقت ہے اور حقیقت ایک تلاش ہے، جو ازل سے ہم میں رکھ دی گئی ہے۔ اس تلاش کا راستہ سرابوں سے گزر کر، محبت سے طے ہوتا ہے۔ ہم جب اپنے ہی نفس و انا و خواہش کی گرد میں اٹ جاتے ہیں، تو اللّه سے کیا، ہم خود سے بھی غافل ہو جاتے ہیں۔ اور حقیقت تو یہی ہے کہ جس نے ان حجابات سے پرے اپنے نفس کو پہچانا اس نے گویا خالقِ نفس کو پہچان لیا۔ ♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️ اور اب یہ انسان یہ نادان انسان رب کی آغوش میں اپنا آپ سونپنے کے سوا اور کہیں راحت نہ پائے گا!ہم جب جب اللہ کے سامنے نہیں جھکتے ہم تب تب شیطان کے سامنے، اپنے نفس یا اپنی خواہش کے سامنے جھکتے ہیں! ایک سجدہء آزمائشِ ایمان وہ تھا جس کو ادا کرنے سے ابلیس نے منع کیا تھا، ایک سجدہء محبت وہ تھا جس کو کرنے کی توفیق اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی محبت کو دی تھی، اور ایک سجدہء عشق وہ تھا جسکو ادا کرنے کی توفیق حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ملی۔ عجب ہے واللہ نمازِ عشق  ہر دھڑکن پر دل سر بسجود جب انسان اختیار کے سراب میں وہ سب کر رہا ہوتا ہے جو وہ کرنا 'چاہتا' ہے ...

تُو نہیں تھا ! مگر یہ دلاسہ ضروری تھا میرے لیے تُو یہیں ہے ! میں خود کو بتاتا رہا ! مسکراتا رہا"..!!🖤

Image
وہ اور ہوں گے کہ جو دشمنوں میں مارے گئے  کہ ہم تو اپنے خدا کے گھروں میں مارے گئے  جو تُجھ سے مانگنے آئے تھے خیریت، یارب ! ترے وہ  بندے تری مسجدوں میں مارے گئے  یہ کوئی جنگ نہیں تھی، نماز تھی مولا !  دُعا بہ لب تھے جو پہلی صفوں میں مارے گئے  لہو میں تر ہیں کتابِ مُبین کے اوراق  تلاوتوں کے امیں آیتوں میں مارے گئے  پڑھو کہ تیس سپاروں میں کیا لکھا ہوا ہے  تو کیوں نمازی عبادت گہوں میں مارے گئے ؟  رقم کرو کوئی نوحہ یتیم خوابوں کا  دِلوں میں پیدا ہوئے تھے، دِلوں میں مارے گئے  سپاہِ شہر ! تری خیر، کیا خبر ہے تُجھے ؟  کہ بدنصیب تری غفلتوں میں مارے گئے  وہ منزلوں پہ مجھے یاد آئیں گے، فارس !  تمام راہی کہ جو راستوں میں مارے گئے  رحمان فارس بحث میں جیت گئی حُسن کے بل بوتے پر ورنہ ظالم کوئی ایسی بھی ارسطُو نہیں تھی  عشق ہوتے ہی وہ لڑکا بھی غزل کہنے لگا  عُمر بھر جس کے مضامین میں اُردو نہیں تھی. بحث میں جیت گئی حُسن کے بل بوتے پر ورنہ ظالم کوئی ایسی بھی ارسطُو نہیں تھی  عشق ہوتے ہی وہ لڑکا بھی غزل کہنے لگا...