کیسی تقسیم تھی ،سب ایک ہی گھر کے نکلے تیرے دربار سے جو جھولیاں بھر کے نکلے
غزل کیسی تقسیم تھی ،سب ایک ہی گھر کے نکلے تیرے دربار سے جو جھولیاں بھر کے نکلے جن کی دستار کو میں چوم لیا کرتا تھا وقت بدلا تو وہ دشمن مرے سر کے نکلے ہم کو درکار تھی چھاؤں سو عطا کی اس نے بعد میں لاکھ بھلے شجرے شجر کے نکلے بکھری زلفوں سے چھپاتے ہوۓ چہروں کے نقوش گدڑیوں والے حسیں چاند نگر کے نکلے بد دعا دیتے ہوۓ اشک بہاتا تھا بہت ہم ترے شہر کے مجذوب سے ڈر کے نکلے ہاۓ وہ لوگ کفن کا جنہیں ٹکڑا نہ ملا ہاۓ وہ لوگ جو زندان سے مر کے نکلے تخلیہ ارشاد عرؔشی ملک معاملاتِ مکر و فن کےشاہکارو، تخلیہ حُکم ہے درویش کا، اے تاجدارو ، تخلیہ خواہشِ نام آوری نے باؤلا تم کو کیا خود ستائی سے بھرے ،ہلکے غبارو ، تخلیہ ہم کو آتی ہے تمہارے کوڑھ باطن سے بساند دِین کے جُبے میں لپِٹے وضعدارو ، تخلیہ سادہ و ناداں سہی پر بے حِس و غاصب نہیں تم پہ رونا ہے ہمیں ،اے ہوشیارو ، تخلیہ ہم کو ملنا ہے خزاں رُت کے سُلگتے کرب سے آج دل حاضر نہیں ،مہکی بہارو ، تخلیہ آج ہم شب بھر پئیں گے عشق ِ مولا کی شراب اے امامو، ناصحو، پرہیز گارو ، تخلیہ ہم کو اپنی بے بسی، بے اختیاری ہے عزیز تم سے کچھ حاجت نہیں ،با اختیارو ، ت...