Posts

Showing posts from April 9, 2023

سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے  کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو 

Image
 ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے پردہ بھی اٹھے رخ سے تو دیکھا نہیں کرتے دل اپنا ہی تصور سے کر لیتے ہیں روشن موسیٰ‌کی طرح طور پہ جایا نہیں کرتے رکھتے ہیں جو اوروں کےلئے پیار کا جذبہ وہ لوگ کبھی ٹوٹ‌کے بکھرا نہیں‌کرتے مغرور ہمیں کہتی ہے تو کہتی رہے دنیا ہم مڑ کے کسی شخص کو دیکھا نہیں کرتے ہم لوگ تو مے نوش ہیں بدنام ہیں ساغر پاکیزہ ہیں جو لوگ، وہ کیا کیا نہیں کرتے  کسی بھی اتفاق سے یا پورے اعتماد سے  ملو مجھے اگر مرے نصیب میں لکھی ہو تم  ہم ایک دوسرے سے یہ گلہ کریں گے عمر بھر  کسی کی زندگی ہوں میں کسی کی زندگی ہو تم  معید مرزا تمہاری تصویر دیکھتے ہوئے تمہیں ہی ڈھونڈ رہی ہیں آنکھیں اک ورق پے ُادھوری داستان لکھی ہیں دیدہ نم سے جنہیں پڑھ رہی ہیں آنکھیں سن سکوں تو میرا دل تمہیں صدا دیتا ہے خاموش لب سہی مگر انتظار کر رہی بیں آنکھیں کاش اب تو تمہارے ہاتھوں کی عنایت ہو گلابی ُرخساروں پربہت اشک بار ہیں آنکھیں تم کیوں نظریں جھکا لیتے ہو تصویر میں بھی جب جدائی پے تم سےسوال کر رہی ہیں آنکھیں چلو ! آج بہت دیر تک سوتے ہیں لکی برسوں سے اک حسین خواب کی راہ تک رہی ہیں آنکھیں...

وہ جانتی تھی وہ میری کمزوری بن چُکی تھی، کبھی کوئی بات نہ بھی ہوتی تھی تو وہ لڑ کر خفا ہو جاتی تھی

Image
وہ جانتی تھی وہ میری کمزوری بن چُکی تھی، کبھی کوئی بات نہ بھی ہوتی تھی تو وہ لڑ کر خفا ہو جاتی تھی، وہ اپنی کی گئی غلطی پر بھی مجھ سے سوری بُلواتی تھی اور میں اسکو کھونے کے ڈر سے اسکے لاکھ منع کرنے پر بھی اسکو میسج کرتا رہتا تھا، کیونکہ میں جانتا تھا اسکو بس ایک بہانہ چاہیے مجھ سے دور ہونے کا اور میں وہ بہانہ بننے ہی نہیں دیتا تھا، جب وہ لڑ کر روٹھ جایا کرتی  تو میں پاگل سا ہو جاتا تھا، بات بات پر رونے لگ جایا کرتا تھا، کسی بھی کام میں دِل نہیں لگتا تھا، میں کھانا پینا چھوڑ دیتا تھا صرف اسی لیے کہ وہ مجھ سے ناراض ہے، اسکی ناراضگی اس دنیا کی ہر چیز سے میرا دل بیزار کر دیتی تھی، میں اسکو بس ایک ہی بات کہتا تھا کہ تمھاری انا سر آنکھوں پر، تمھاری محبت قبول مجھے، تمھارا غُصہ بھی میں چپ چاپ سہہ لوں گا لیکن خُدارا محبت میں کسی تیسرے کو شامل نہ کرنا، لیکن وہ مجھے سمجھ ہی نہیں پائی اور اسنے سب جانتے ہوئے بھی تیسرے کو شامل کر ہی لیا، اور میری زندگی کو درد سے ہمیشہ کے لیے بھر دیا، میں اسکی محبت میں سکون پاتا تھا لیکن اسنے مجھ سے میرا سکون چھین کر مجھے بے سکون کر دیا ___ چاند آیا ہی نہیں بات ...

کیسے عجیب لوگ تھے ، جن کے یہ مشغلے رہے میرے بھی ساتھ ساتھ تھے، غیر سے بھی ملے رہے

Image
ابھی کسی کے ، نہ میرے کہے سے گزرے گا وہ خود ہی اِک دن اسی دائرے سے گزرے گا بھری رہے ابھی آنکھوں میں اسکےنام کی نیند وہ خواب ھے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا جو  اپنے  آپ  گزرتا  ھے ،  کوچۂِ  دل  سے مجھےگماں تھا میرے مشورے سےگزرے گا قریب آنے کی تمہید ، ایک  یہ  بھی  رہی وہ پہلے پہلے ، ذرا  فاصلے  سے  گزرے گا قصوروار نہیں ، پھر بھی چُھپتا پھرتا ھوں وہ میرا چور ھے ، اور سامنے سے گزرے گا چُھپی هو شاید اسی میں سلامتی دل کی یہ  رفتہ  رفتہ ، اگر  ٹوٹنے  سے  گزرے گا ہماری سادہ دلی تھی جو ہم سمجھتے رهے کہ عکس ھے ، تو اسی آئینے سے گزرے گا سمجھ ہمیں بھی ہے اتنی کہ اسکا عہدِ ستم گزارنا هے ،  تو  اب  حوصلے  سے  گزرے گا گلی گلی  میرے  ذرّے  بکھر  گئے  تھے ظفرؔ خبر نہ تھی کہ وہ کس راستے سے گزرے گا  ( ظفر اقبال ) کیسے عجیب لوگ تھے ، جن کے یہ مشغلے رہے میرے بھی ساتھ ساتھ تھے، غیر سے بھی ملے رہے تو بھی نا مل سکا ہمیں، عمر بھی رائیگاں گئی تجھ سے تو خیر عشق تھا، خود ...