سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو
ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے پردہ بھی اٹھے رخ سے تو دیکھا نہیں کرتے دل اپنا ہی تصور سے کر لیتے ہیں روشن موسیٰکی طرح طور پہ جایا نہیں کرتے رکھتے ہیں جو اوروں کےلئے پیار کا جذبہ وہ لوگ کبھی ٹوٹکے بکھرا نہیںکرتے مغرور ہمیں کہتی ہے تو کہتی رہے دنیا ہم مڑ کے کسی شخص کو دیکھا نہیں کرتے ہم لوگ تو مے نوش ہیں بدنام ہیں ساغر پاکیزہ ہیں جو لوگ، وہ کیا کیا نہیں کرتے کسی بھی اتفاق سے یا پورے اعتماد سے ملو مجھے اگر مرے نصیب میں لکھی ہو تم ہم ایک دوسرے سے یہ گلہ کریں گے عمر بھر کسی کی زندگی ہوں میں کسی کی زندگی ہو تم معید مرزا تمہاری تصویر دیکھتے ہوئے تمہیں ہی ڈھونڈ رہی ہیں آنکھیں اک ورق پے ُادھوری داستان لکھی ہیں دیدہ نم سے جنہیں پڑھ رہی ہیں آنکھیں سن سکوں تو میرا دل تمہیں صدا دیتا ہے خاموش لب سہی مگر انتظار کر رہی بیں آنکھیں کاش اب تو تمہارے ہاتھوں کی عنایت ہو گلابی ُرخساروں پربہت اشک بار ہیں آنکھیں تم کیوں نظریں جھکا لیتے ہو تصویر میں بھی جب جدائی پے تم سےسوال کر رہی ہیں آنکھیں چلو ! آج بہت دیر تک سوتے ہیں لکی برسوں سے اک حسین خواب کی راہ تک رہی ہیں آنکھیں...