سبھی موسم ہیں دسترس میں تری تُو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے تُو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے
ایسے پت جھڑ سے وسیلے نکلے سب نئے پتے بھی پیلے نکلے میں نے جب ذکر. بہاروں کا کیا سارے الفاظ نکیلے نکلے کیسی حیرت کہ مرے شجرے میں چند آوارہ قبیلے نکلے تم نے جو. مجھ کو بُوکے بھیجا تھا اس کے سب پھول کٹیلے نکلے رات ایسی تھی ہوا میں تاثیر قطرے شبنم کے نشیلے نکلے انتخاب سرِ طور ہو سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی نہ ہو ان پہ میرا جو بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی تیرا در تو ہمکو نہ مل سکا، تیری رہگزر کی زمیں سہی ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پہ...