Posts

Showing posts from February 19, 2023

میری یہ بچپن سے عادت رہی ہے کہ جب محلے کی دکان سے کچھ بھی لیا،

Image
میری یہ بچپن سے عادت رہی ہے کہ جب محلے کی دکان سے کچھ بھی لیا،   انہوں نے اخباری ٹکڑے میں لپیٹ کر دیا تو شے کے استعمال کے بعد اس ٹکڑے کو ضرور دیکھا اور پڑھا۔  یہ 2007 کی بات ہے میں اسلام آباد میں  اس وقت سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا۔ مارکیٹ میں تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔  اُس نے لکھا کہ: میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔ میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک آنکھوں دیک...

*ببر شیر کـو قـتل کرنے والےصحـابـیؓ* 

Image
➖▪️•••••➖➖•••••▪️➖ *ببر شیر کـو قـتل کرنے والےصحـابـیؓ*   مسلمان  فوج اور ایران کی فوج جنگ کے میدان میں جب آمنے سامنے آئے تو   مسلمان حیران ہوگئے کہ  ایرانی اپنے ساتھ لڑنے کے لیئے تربیت یافتہ شیر لائے ہیں!!!  ان کے اشارے کے ساتھ شیر بھاگتا ہے گرجتا ھے   مسلمانوں کی فوج میں سے ایک  دل والا بہادر آدمی نکلا! وہ  نڈر  بہادر مسلمان ایک خوفناک اور ناقابل یقین اعتبار سے شیرکی طرف بھاگا  اور میرا خیال ہے  تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک آدمی, شکاری شیر  کا شکار کرنے  بھاگا ہو!  دونوں فوجیں حیرت سے دیکھنے لگیں  آدمی چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو  شیر کا سامنا کیسے کر سکتا ہے!!!  وہ بہادر, ہوا کی طرح شیر کی طرف اڑ کر گیا!    اس بہادر  کے سینے میں کامل مسلمان کا  ایمان اور ہمت تھی!  جو خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا بلکہ اس کا عقیدہ تھا کہ شیر ہی اس سے ڈرے گا!  پھر اس نے اپنے شکار پر شیر کی طرح چھلانگ لگائی اور اس پر کئی وار کیے یہاں تک کہ اس نے اسے مار ڈالا!!  ای...

یہ وہ محلہ ہے جہاں میں پلا بڑھا - بچوں کے ساتھ جرابوں کی بال بنا کر دھوبی گھاٹ پہ کپڑے دھونے والے ڈنڈے کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا

Image
یہ وہ محلہ ہے جہاں میں پلا بڑھا - بچوں کے ساتھ جرابوں کی بال بنا کر  دھوبی گھاٹ پہ کپڑے دھونے والے ڈنڈے کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا (شاید اس لیے میری بیک لفٹ اونچی تھی) -  پہلی بار کرکٹ کلب میں داخلہ اس شرط پہ ملا کہ میں سب سے پہلے آ کر وکٹ اور گراؤنڈ میں جھاڑو لگایا کروں گا -  اس کے علاوہ سینئر پلیئرز کے لیے نیٹ نصب کرنے کی ذمےداری بھی میری ہی تھی -  یہ جو بھائی اس تصویر میں نظر آ رہے ہیں ان کا نام ظہیر ہے -  یہ وہ شخص ہے جو ہمارے کلب کا کپتان تھا -  ظہیر نے کلب انتظامیہ سے لڑ کر مجھے ٹیم میں کھلانے کی کوشش کی تھی -  جب کلب انتظامیہ مجھے کھلانے پہ آمادہ نا ہوئی تو ظہیر نے خود کو ڈراپ کر لیا اور اپنی جگہ مجھے چانس دے دیا -  یہی نہیں بلکہ ظہیر نے میچ کے لیے مجھے اپنی کٹ بھی دے دی - میں نے اس دن ریلوے کالونی کی درزی کی اس دکان سے چھٹی کر لی تھی جہاں میں کام سیکھنے جایا کرتا تھا -  اللہ پاک نے اس  میچ میں میری اور ظہیر کی لاج رکھی اور میں نے سنچری اسکور کی اور اس دن کے بعد سے کلب انتظامیہ نے کبھی مجھے میچ سے ڈراپ نہیں کیا -  ظہیر کچھ ع...