میری یہ بچپن سے عادت رہی ہے کہ جب محلے کی دکان سے کچھ بھی لیا،
میری یہ بچپن سے عادت رہی ہے کہ جب محلے کی دکان سے کچھ بھی لیا، انہوں نے اخباری ٹکڑے میں لپیٹ کر دیا تو شے کے استعمال کے بعد اس ٹکڑے کو ضرور دیکھا اور پڑھا۔ یہ 2007 کی بات ہے میں اسلام آباد میں اس وقت سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا۔ مارکیٹ میں تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔ اُس نے لکھا کہ: میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔ میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک آنکھوں دیک...