Posts

Showing posts from April 25, 2020

یہ ‏تحریر ‏منفول ‏ہے ‏جس ‏نے ‏لکھی ‏آنکھوں ‏میں ‏آنسو ‏آ ‏گئے ‏

Image
یہ تحریر منفول ہے جس نے لکھی آنکھوں میں آنسو آگئے میں نے پوچھا،  اعظم چاچا! کل میرے گھر میں افطاری ہے، قریباً پچاس احباب ہونگے، مجھے پکوڑے چاہئیں،  آپ کو اڈوانس کتنے پیسے دے جاوں؟  چاچا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔ "کتنے پیسے دے سکتے ہو" مجھے ایسے لگا، جیسے چاچا جی نے میری توہین کی ہے، مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی، میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور چاچا جی کے سامنے رکھ دئیے، چاچا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے، وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو،  کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا، میری پریشانی تم نے حل کر دی، افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے کہ اسے دے سکتا ، اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی۔ میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی۔ وہ کون ہے آپکی ؟ میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ چاچا جی تپ گئے، وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو، رشتے کیا ہوتے ہیں، جنہیں انسانیت کی پہچان نہیں رہی انہیں رشتوں کا ...