Posts

Showing posts from March 18, 2023

ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے  مگر  ہر  صبح  ہو  روز   جزا   ایسے   نہیں  ہوتا 

Image
ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا  صنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتا  گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں  مرے    قاتل   حساب   خوں   بہا   ایسے   نہیں   ہوتا  جہان دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں  یہاں  پیمان  تسلیم  و  رضا  ایسے  نہیں  ہوتا  ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے  مگر  ہر  صبح  ہو  روز   جزا   ایسے   نہیں  ہوتا  رواں ہے نبض دوراں گردشوں میں آسماں سارے  جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا  جاناں پھولوں جیسی ہو تم پیپر کیسے دیتی ہو تم  نازک انگلیاں دکھتی ہونگی اتنا زیادہ لکھتی ہو تم پردہ کر کے آیا کرو اب یو ایف اے میں پڑھتی ہو تم کلاس میں اکثر بات نہیں کرتی اچھا سر سے ڈرتی ہو تم میری بات تو سنتی نئی ہو لیکچر کیسے سنتی ہو تم سجھ دھج کر نہ آیا کر بس شہزادی تو لگتی ہو تم افکار , حافی,  زیورن چھوڑو مرشد جون پڑھتی ہو تم ؟؟ م...