Posts

Showing posts from November 1, 2020

ایک بادشاہ نے گھوڑوں کے اصطبل کے ساتھ گدھے بھی رکھے ہوۓ تھے

Image
ایک بادشاہ نے گھوڑوں کے اصطبل کے ساتھ گدھے بھی رکھے ہوۓ تھے۔گدھے ہر روز گھوڑوں سے بچا ہوا کھانا کھاتے۔اور گھوڑوں کو ویلا اور نکما کہتے۔اور کوڑتے رہتے کہ گھوڑوں کیلے اتنا اچھا کھانا اور ہم سارا دن کام کرتے ہیں اور کھاتے گھوڑوں کا بچا ہوا کھانا۔ ہر روز صبح صبح گھدوں پر سامان لادھنا اور ان سے سارا دن کام لینا۔اور گھوڑوں کی مالش شروع۔گدھوں نے سارا دن گھوڑوں کو گالیاں دینی کہ اگر یہ نا ہوں تو یہ سب بھی ہمیں کھانے کو ملتا۔ہماری بھی مالش ہوتی خادم ہماری دیکھ بھال کرتے۔یوں سارا دن گدھوں کی طرح کام کر کر تھک جاتے ہیں۔ ایک دن اچانک گھوڑں پر کاٹھیاں ڈلنا شروع ہو گئیں۔ہر سپاہی جلدی جلدی اپنے گھوڑے کو تیار کرنے میں لگا ہوا ہے۔گدھوں کی جان میں بھی جان آئی کہ شکر ہے آج ان کو بھی کام کرنا پڑے گا۔ شام گزر گئی گھوڑے نا آۓ گدھے پریشان کہ ابھی تک نہیں آۓ۔کیا کام آ گیا۔اگلے دن جب گھوڑے واپس آۓ تو کسی کا کان نہیں کسی کی آنکھ نہیں کوئی لنگڑا کے چل رہا ہے تو واپس ہی نہیں آیا۔گدھوں نے گھوڑوں سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔یہ تمہارا حال کس نے کیا ہے۔گھوڑوں نے کہا کہ ہم جنگ پر گئے تھے۔اور جنگ میں ایسا ہی ہوت...