Posts

Showing posts from April 12, 2023

وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا

Image
 ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے کس قدر ہوگا یہاں مہر و وفا کا ماتم ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے جوہری بند کئے جاتے ہیں بازار سخن ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے نعمت زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں مر جائیں گے شاید اپنا بھی کوئی بیت حدی خواں بن کر ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے فیضؔ آتے ہیں رہ عشق میں جو سخت مقام آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے فیض احمد فیض مرے تن کے زخم نہ گِن ابھی مری آنکھ میں ابھی نور ہے مرے بازوؤں پہ نگاہ کر جو غرور تھا، وہ غرور ہے ابھی تازہ دم ہے مرا فرس نئے معرکوں پہ تُلا ہوا ابھی رزم گاہ کے درمیاں ہے مرا نشان کھلا ہوا تری چشمِ بد سے رہیں نہاں وہ تہیں جو ہیں مری ذات کی مجھے دیکھ قبضۂ تیغ پر ہے گرفت ابھی مرے ہاتھ کی وہ جو دشتِ جاں کو چمن کرے یہ شرف تو میرے لہو کا ہے مجھے زندگی سے عزیز تر یہ جو کھیل تیغ و گلو کا ہے تجھے مان جوشن و گُرز پر مرا حرفِ حق مری ڈھال ہے ترا جور و ظلم بلا سہی مرا حوصلہ بھی کمال ہے میں اسی قبیلے کا فرد ہوں جسے ناز صدق و یقیں پہ ہے یہی نامہ بر ہے بہار کا جو گلا...

 یونہی نہیں اُداس میں رہتا ہوں دوستو!! میری اداسیوں کا سبب ایک شخص ہے!!

Image
 خود سے دُعا سلام ہوئ تو پتہ چلا!! مجھ میں مکین شخص بڑا نیک شخص ہے!!  یونہی نہیں اُداس میں رہتا ہوں دوستو!! میری اداسیوں کا سبب ایک شخص ہے!! اُسامہ فراق  قتیل شفائی  چارہ گر اے دلٍ بیتاب کہاں آتے ہیں مجھ کو خوش رہنےکے آداب کہاں آتے ہیں میں تو یَک مُشت سونپ دوں اُسے سب کچھ لیکن! ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں  مدتوں بعد اُسے دیکھ کے دل بھر آیا  ورنہ صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں میری بےدرد نگاہوں میں اگر بھولے سے نیند آ بھی جائے تو خواب کہاں آتے ہیں   تنہا رہتا ہوں میں دن بھر بھری دنیا میں قتیل دن بُرے ہوں تو پھر احباب کہاں آتے ہیں !!!!! کبھی سکوں  تو کبھی خیر و شر دیا ہے مجھے مرے جنوں نے الگ سمت کر دیا ہے مجھے میں اپنے آپ کو اکثر نظر نہیں آتی کسی نے ایسے فراموش کردیا ہے مجھے میں سوچتی تھی کہ کرنا ہے بس تمہی کو بسر بساطِ عشق نے عجلت میں دھر دیا ہے مجھے سفر کے واسطے مہلت ہے چار دن کی فقط خدا نے وقت بہت مختصر دیا ہے مجھے یہ ہاتھ پاؤں کی خیرات بٹتی ہے سب میں سخن وری نے الگ جسم و سر دیا ہے مجھے   میں جیسے چاہوں بدل سکتی ہوں فسانہِ دل یہ...