وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے کس قدر ہوگا یہاں مہر و وفا کا ماتم ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے جوہری بند کئے جاتے ہیں بازار سخن ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے نعمت زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں مر جائیں گے شاید اپنا بھی کوئی بیت حدی خواں بن کر ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے فیضؔ آتے ہیں رہ عشق میں جو سخت مقام آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے فیض احمد فیض مرے تن کے زخم نہ گِن ابھی مری آنکھ میں ابھی نور ہے مرے بازوؤں پہ نگاہ کر جو غرور تھا، وہ غرور ہے ابھی تازہ دم ہے مرا فرس نئے معرکوں پہ تُلا ہوا ابھی رزم گاہ کے درمیاں ہے مرا نشان کھلا ہوا تری چشمِ بد سے رہیں نہاں وہ تہیں جو ہیں مری ذات کی مجھے دیکھ قبضۂ تیغ پر ہے گرفت ابھی مرے ہاتھ کی وہ جو دشتِ جاں کو چمن کرے یہ شرف تو میرے لہو کا ہے مجھے زندگی سے عزیز تر یہ جو کھیل تیغ و گلو کا ہے تجھے مان جوشن و گُرز پر مرا حرفِ حق مری ڈھال ہے ترا جور و ظلم بلا سہی مرا حوصلہ بھی کمال ہے میں اسی قبیلے کا فرد ہوں جسے ناز صدق و یقیں پہ ہے یہی نامہ بر ہے بہار کا جو گلا...