دریا تو ھم نے مشکیزے میں اٹھا رکھا ہے اسلیے میرپوری نے یہ حال بنا رکھا ہے
*ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت* *لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے* *مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوں* *عشق میں کتنا نام کمایا جا سکتا ہے* *یہ مہتاب یہ رات کی پیشانی کا گھاؤ* *ایسا زخم تو دل پر کھایا جا سکتا ہے* *پھٹا پرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابشؔ* *اس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے* عباس تابش " لوگ تو لوگ تھے جِی بٙھر کے خسارہ کرتے کم سے کم تُم تو نا نقصان ہمارا کرتے کر تو لینا تھا تیرے ساتھ گزارہ لیکن " اب تیرے ساتھ بھی کرتے تو گزارہ کرتے *دیر تک رات اندھیرے میں جو میں نے دیکھا* *مجھ سے بچھڑے ہوئے اک شخص کا چہرہ ابھرا* *قسمیں دے دے کے مرے ہاتھوں نے مجھ کو روکا* *میں نے دیوار سے کل نام جب اس کا کھرچا* *موم بتی کو گلاتا رہا دھیرے دھیرے* *رات اندھیرے کا مرے کمرے میں بہتا لاوا* آفتاب شمسی *نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا* *یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں* منیر نیازی اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی پروین شاکر بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں دلِ فسردہ میں ، پھر دھ...