Posts

Showing posts from February 18, 2023

دریا تو ھم نے مشکیزے میں اٹھا رکھا ہے اسلیے میرپوری نے یہ حال بنا رکھا ہے

*ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت* *لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے* *مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوں* *عشق میں کتنا نام کمایا جا سکتا ہے* *یہ مہتاب یہ رات کی پیشانی کا گھاؤ* *ایسا زخم تو دل پر کھایا جا سکتا ہے* *پھٹا پرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابشؔ* *اس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے* عباس تابش " لوگ تو لوگ تھے جِی بٙھر کے خسارہ کرتے   کم سے کم تُم تو نا نقصان ہمارا کرتے  کر تو لینا تھا تیرے ساتھ گزارہ لیکن  " اب تیرے ساتھ بھی کرتے تو گزارہ کرتے *دیر تک رات اندھیرے میں جو میں نے دیکھا* *مجھ سے بچھڑے ہوئے اک شخص کا چہرہ ابھرا* *قسمیں دے دے کے مرے ہاتھوں نے مجھ کو روکا* *میں نے دیوار سے کل نام جب اس کا کھرچا* *موم بتی کو گلاتا رہا دھیرے دھیرے* *رات اندھیرے کا مرے کمرے میں بہتا لاوا* آفتاب شمسی *نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا* *یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں* منیر نیازی اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی پروین شاکر بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں دلِ فسردہ میں ، پھر دھ...

وصف اِک اضافی تھا اُس میں خوش مزاجی کا.! اور ہم کو لاحق تھے ، واہمے محبت کے"

حسن و جمال خود پہ بہت اعتماد اور آنکھوں میں اک خوشی تھی مگر اب نہیں رہی زیادہ نہیں تو سال سے پہلے کی بات ہے اس وقت دلکشی تھی مگر اب نہیں رہی ذریت لاریب توقیر 🖤 ‏دیارِ غیر کو جاتے ہوئے سبھی مجبور  پلٹ کے آئے تو پہلے زمین چومیں گے ہوس کا کوئی تعلق نہیں محبت سے کہِیں تُو مِل بھی گیا تو جبین چومیں گے میں اکیلا اور سفر کی شام رنگوں میں ڈھلی  پھر یہ منظر میری نظروں سے بھی اوجھل ہو گیا  اب کہاں ہوگا وہ اور ہوگا بھی تو ویسا کہاں  سوچ کر یہ بات جی کچھ اور بوجھل ہو گیا منیر نیازی میں بار بار تجھے دیکھتا ہوں اس ڈر سے  کہ پچھلی بار کا دیکھا ہوا خراب نہ ہو  شاہین عباس جبیں سے پہلے ترے پیر چومنے ہیں مجھے میں آسمان سے پہلے زمیں کا سوچتا ہوں راشد خان عاشر بہت دکھی تھا میں بے مصرفی کے عالم میں کہ تجھ پہ جان چھڑکنے کا سکھ نکل آیا ابھی میں سوچ رہا تھا کہ ٹھیک زندہ ہوں تمھارے  کام  نہ  آنے کا  دکھ  نکل  آیا عمار اعظم❤️ وہ ختم قید کی معیاد بھی نہیں کرتا مگر میں زحمت فریاد بھی نہیں کرتا اور کبھی کبھی تو وہ مجھے اتنا یاد آتا ہے میں زد میں آ کے اسے ی...

نیوزی  لینڈ کے ساحل پر ڈھیروں مچھلیاں آ گئیں

Image
نیوزی لینڈ کے ساحل پر ڈھیروں مچھلیاں آ گئیں،  ایک بچہ تڑپتی ہوئی مچھلیاں اٹھا اٹھا کر واپس سمندر میں پھینک رہا تھا کہ ایک بزرگ نے کہا کہ "تم فضول محنت کر رہے ہو تھک جاؤ گے،  ان لاکھوں مچھلیوں کو تم نہیں بچا سکتے ۔۔۔ "  بچے نے ایک مچھلی اٹھائی اور سمندر میں پھینکتے ہوئے کہا کہ  "اسے تو میں نے بچا لیا نا ۔۔۔💕" ہم بھی اپنی چونچ سے جتنا پانی نارِ نمرود پر ڈال سکتے ہیں  تو ڈال دیں، بائیس کروڑ پاکستانیوں کے دکھوں کا مداوا تو ہم نہیں کر سکتے لیکن کسی ایک کی زندگی کو تو آسان بنا سکتے ہیں ناں ۔۔۔ ہر صاحب استطاعت کم سے کم کسی ایک مجبور فرد یا فیملی کا سہارہ بنے اس مشکل دور میں! منقول