جـانتــا ہــے مجھـے آواز سـے ڈر لگتــا ہــے جس نے باندھا ہے مِرے پاؤں کی زنجیر سے خوف
اِشکنہ شاعر : آغاگل ہائے وہ مستونگ کی رُومان پرور سرزمیں ایسی دل کش اور حسیں جس کا کوئی ثانی نہیں اُس کی کاریزیں ، جو ٹھنڈی بھی ہیں پُر اسرار بھی یو نہی صدیوں سے بہے جاتی ہیں باصد دِل کشی اشکنہ! رنگین و دل کش داستانوں کی زمیں وہ مری دَمساز اور بچپن کی یادوں کی اَمیں سُرخ وہ رنگیں گلابوں سے ، تو سبزے سے ہری اُس کے تاکستان کی شاخیں، انگوروں سے بھری وہ حسیں تالاب پانی جس کا ہے آبِ زُلال اونٹ جس میں ڈُوب جائیں ہے یہ گہرائی کا حال جس کے بارے میں سناتی تھیں ہماری دادی ماں شب کو سوتے وقت پریوں کی رنگیلی داستاں عظمتِ در گزشتہ، چپّے چپّے سے عیاں ہر طرف بکھرے براہوی شان و شوکت کے نِشاں اشکنہ میں جو بھی گزار وقت تھا وہ بے مثال مجھ کو ہے جکڑے ہوئے اس کی حسیں یادوں کا جَال جیب میں اپنی لیے بے نام کھوٹی پاؤلی چل پڑا بازارِ اُلفت کی طرف ناچیز بھی تاکہ یوسفؑ کو خریدے مِصر کے بازار میں پھنس گیا زُلیخا عشق کے آزار میں جب وہاں پہنچا تو دیکھا جا چکُے تھے قافلے اپنے گیدانوں کو اونٹوں پر سمیٹا، چل دیے اک سمندر کی طرف رہتی ہیں جل پریاں جہاں اُس طرف جِس جا کہ ملتے ہیں زمین و آسماں...