لاکھ سے تیرہ بیٹیاں کیوں
مالک اس دفعہ بھی منڈی سے سب سے مہنگا ج1 3 لاکھ میں لے کر آئے تھے پورے محلے میں اس کی قیمت کا چرچا تھا اور چچا فضلو برآمدے میں بوڑھی ہوتی بیٹی کی پریشانی لئے سوچ رہا تھا کہ کاش) "کوئی مفتی فتوی دے دیتا کہ 13 لاکھ کے جانور کی قربانی سے اچھا تھا کسی غریب کی بیٹی کی شادی ہی کر دیتا" تقریبا بیس سے زائد شعبہ ایسے ہیں جو قربانی کی چند روزہ اربوں روپے کی صنعت سے وابستہ ہیں (جانور پالنا رسیاں قلادے جھانجھریں چھریاں قصائی وغیرہ) اور وہ سب غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، چند د نوں میں اربوں روپے امیروں کی جیب سے نکل کر قربانی کے شوق اور تقرب الی اللہ کی خاطر غریبوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ بعد میں گوشت بھی عام لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اس طرح یہ عمل غریبوں سے شروع ہو کر غریبوں میں ہی اختتام کو پہنچتا ہے۔ نمود و نمائش شرعاً عرفاً اخلاقاً برا اور قابل مذمت عمل ہے، اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے لیکن اس سے بڑھ کر یہ برا اور قابل مذمت عمل ہے کہ ایک شرعی حکم جو سال بھر پورا نہیں کیا جا سکتا اس سے لوگوں کو جذباتی پوسٹ کر کے ...