Posts

Showing posts from September 20, 2016

لاکھ سے تیرہ بیٹیاں کیوں

Image
مالک اس دفعہ بھی منڈی سے سب سے مہنگا ج1 3   لاکھ   میں لے کر آئے تھے پورے محلے میں اس کی قیمت کا چرچا تھا اور چچا  فضلو برآمدے میں بوڑھی ہوتی بیٹی کی پریشانی لئے سوچ رہا تھا کہ کاش) "کوئی مفتی فتوی دے دیتا کہ 13 لاکھ کے جانور کی قربانی سے اچھا تھا کسی غریب کی بیٹی کی شادی ہی کر دیتا" تقریبا بیس سے زائد شعبہ ایسے ہیں جو قربانی کی چند روزہ اربوں روپے کی صنعت سے وابستہ ہیں (جانور پالنا رسیاں قلادے  جھانجھریں چھریاں قصائی وغیرہ) اور وہ سب غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، چند د نوں میں اربوں روپے امیروں کی جیب  سے نکل کر قربانی کے شوق اور تقرب الی اللہ کی خاطر غریبوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ بعد میں گوشت بھی عام لوگوں میں  تقسیم کر دیا جاتا ہے اس طرح یہ عمل غریبوں سے شروع ہو کر غریبوں میں ہی اختتام کو پہنچتا ہے۔ نمود و نمائش شرعاً عرفاً اخلاقاً برا اور قابل مذمت عمل ہے، اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے لیکن اس سے بڑھ کر یہ برا اور قابل  مذمت عمل ہے کہ ایک شرعی حکم جو سال بھر پورا نہیں کیا جا سکتا اس سے لوگوں کو جذباتی پوسٹ کر کے ...

جوھانسبرگ سے لندن

Image
جنوب افریقا کے شہر جوھانسبرگ سے لندن آتے ہوئے پرواز کے دوران، اکانومی کلاس میں ایک سفید فام عورت جس کی عمر پچاس یا  اس سے کچھ زیادہ تھی کی نشست اتفاقا ایک سیاہ فام آدمی کے ساتھ بن گئی۔ عورت کی بے چینی سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ اس صورتحال سے قطعی خوش نہیں ہے۔ اس نے گھنٹی دیکر ایئر ہوسٹس کو بلایا اور کہا  کہ تم اندازہ لگا سکتی ہو کہ میں کس قدر بری صورتحال سے دوچار ہوں۔  تم لوگوں نے مجھے ایک سیاہ فام کے پہلو میں بٹھا دیا ہے۔ میں  اس بات پر قطعی راضی نہیں ہوں کہ ایسے گندے شخص کے ساتھ س فر کروں۔ تم لوگ میرے لئے متبادل سیٹ کا بندوبست کرو۔ ایئر ہوسٹس جو کہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھنے والی تھی نے اس عورت سے کہا،  محترمہ آپ تسلی رکھیں، ویسے تو جہاز مکمل  طور پر بھرا ہوا ہے لیکن میں جلد ہی کوشش کرتی ہوں کہ کہیں کوئی ایک خالی کرسی تلاش کروں۔ ایئرہوسٹس گئی اور کچھ ہی لمحات کے بعد لوٹی تو اس عورت سے کہا،  محترمہ، جس طرح کہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جہاز تو مکمل  طور پر بھرا ہوا ہے اور اکانومی کلاس میں ایک بھی کرسی خالی نہیں ہے۔ میں نے کیپٹن ک...

ﺍِﻣﺎﻡ ﮐﻌﺒﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺴﺪﯾﺲ

Image
ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻢ ﻋﻤﺮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮩﺖ ﺫﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﺗﮭﺎ. ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﻟﻦ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺳﺎﻟﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺁﮔﯿﺎ، ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ )ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺑﭙﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ( ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﭼﻞ ﺑﮭﺎﮒ ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﮯ، ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﺎ ﺍِﻣﺎﻡ ﺑﻨﺎﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺫﺭﺍ ﮈﮬﺎﺭﺱ ﺑﻨﺪﮬﯽ ﺗﻮ ﺭُﻧﺪﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﮯ؛ ﺍﮮ ﺍُﻣﺖ ﺍِﺳﻼﻡ، ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﺗﮭﺎ؟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭﮦ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯﺲ ﺍِﻣﺎﻡ ﮐﻌﺒﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ  ﻟﮍﮐﺎ ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺴﺪﯾ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺍَﮐﺒﺮ، ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺴﺪﯾﺲ ﺣﻔﻈﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺬﺍﺕِ ﺧﻮﺩ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﺣﺮﻡ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺩﻟﻌﺰﯾﺰ ﺍِﻣﺎﻡ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍِﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮ ﺩِﻝ ﭘﺮ ﺭﺍﺝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ!!! ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﺎﺅﮞ، ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﯽ ﺭﮨﻮ۔ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﯽ ﻏﺼﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍُﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺧﯿﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﻤﮯ ﮨﯽ ﻧﮑﺎﻻ ﮐﺮﻭ۔ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﺍ...

جہالتوں کے اندھیرے مٹا کہ لوٹ آیا..

راحت اندوری جہالتوں کے اندھیرے مٹا کہ لوٹ آیا.. میں آج ساری کتابیں جلا کہ لوٹ آیا.. وہ اب بھی ریل میں بیٹھی سسک رہی ہوگی. میں اپنا ہاتھ ہوا میں ہلا کہ لوٹ آیا... خبر ملی ہے کہ سونا نکل رہا ہے وہاں.. میں جس زمیں پر ٹھوکر لگا کہ لوٹ آیا. وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا.. میں اس کے تاج کی قیمت لگا کہ لوٹ آیا... ر

میں ایک بادشاہ تھا

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر  مار دیتے- ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے- وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر  آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت  کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں- بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا- وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جا کر کہا مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور ان کی مکمل رکھوالی میں کرونگا, رکھوالا وزیر کے اس  فیصلے کو سن کر چونکا لیکن پھر اجازت دے دی- ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے, اوڑھنے بچھونے, نہلانے تک کے سارے کام ا...