Posts

Showing posts from January 21, 2023

جب سلطان صلاح الدین ایوبی دمشق کے لیے روانہ ہونے لگا

Image
داستان ایمان فروشوں کی ۔ قسط نمبر۔77-  جب خدا زمین پر اتر آیا مصر میں جہاں آج اسوان ڈیم ہے، آٹھ سو سال پہلے وہاں ایک خونریز معرکہ لڑا گیا تھا۔ مورخوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور کی اس لڑائی کا ذکر کیا ہی نہیں اگر کیا ہے تو اتنا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا ایک جرنیل باغی ہوگیا تھا۔ قاضی بہائوالدین شداد نے اپنی ڈائری میں اس جرنیل کا نام بھی لکھا ہے۔ نام القنض تھا جس کا تلفظ القند ہے۔ وہ مصری مسلمان تھا۔ اس کی ماں سوڈانی تھی۔ شاید یہ سوڈانی خون تھا جس نے اسے سلطان صلاح الدین ایوبی کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا۔ اس دور کے واقعہ نگاروں اور کاتبوں کی غیر مطبوعہ تحریریں ملی ہیں، ان سے اس کی بغاوت کا پس منظر خاصی حد تک واضح ہوجاتا ہے۔ یہ ١١٧٤ء کے آخر اور ١١٧٥ء کے اوائل کا عرصہ تھا جب سلطان صلاح الدین ایوبی مصر سے غیرحاضر تھا۔ اس سے پہلے پوری تفصیل سے سنایا جاچکا ہے کہ نورالدین زنگی مرحوم کی وفات کے فوراً بعد شام کے حالات اس صورت میں بگڑ گئے تھے کہ مفادپرست امراء نے زنگی مرحوم کے گیارہ سالہ بیٹے کو سلطنت کی گدی پر بٹھا دیا اور صلیبیوں سے گٹھ جوڑ کرکے خود مختاری کے راستے پر چل پڑے تھے۔ س...

 مسلسل وار کرنے پر بھی ذرہ بھر نہیں ٹوٹا  میں پتھر ہو گیا لیکن ترا خنجر نہیں ٹوٹا 

Image
مسلسل وار کرنے پر بھی ذرہ بھر نہیں ٹوٹا  میں پتھر ہو گیا لیکن ترا خنجر نہیں ٹوٹا  ترے ٹکرے مری کھڑکی کے شیشوں سے زیادہ ہیں  نصیب اچھا ہے میرا تو مرے اندر نہیں ٹوٹا  مجھے برباد کرنے تک ہی اُس کے آستاں ٹوٹے  مرا دل ٹوٹنے کے بعد اُس کا گھر نہیں ٹوٹا  طلسم ِ یار میں جب بھی کمی آئی، نمی آئی  اُن آنکھوں میں جنہیں لگتا تھا جادوگر نہیں ٹوٹا  سروں پر آسماں ہاتھوں سے آئینے نظر سے دل  بہت کچھ ٹوٹ سکتا تھا بہت کچھ پر نہیں ٹوٹا  ہم اُس کا غم بھلا قسمت پہ کیسے ٹال سکتے ہیں  ہمارے ہاتھ میں ٹوٹا ہے وہ گر کر نہیں ٹوٹا  تیرے بھیجے ہوئے تیشوں کی دھاریں تیز تھیں حافی  مگر ان سے یہ کوہ ِ غم زیادہ تر نہیں ٹوٹا  . تہذیب حافی نہیں تھا اپنا مگر پھر بھی اپنا اپنا لگا  کسی سے مل کر بہت دیر بعد اچھا لگا  تمہیں لگا تھا میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر  بتاؤ پھر تمہیں میرا مزاق کیسا لگا  تجوریوں پے نظر اور لوگ رکھتے ہیں  میں آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا  مسلسل وار کرنے پر بھی ذرا بھر نہیں ٹوٹا  میں پتھر ہو گیا ہوں ...