کھبی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا
کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا پیر سید نصیر الدین نصیر تیز ہوا اور شب بھر بارش اندر چپ اور باہر بارش اُس سُر تال کا اور مزا تھا کچے گھر کی چھت پر بارش جھُوم رہے ہیں بھیگ رہے ہیں پیڑ، پرندے ،منظر بارش یاد بہت آتے ہیں جاناںؔ ہاتھ میں ہاتھ اور سر پر بارش جاناں ملک گر محبت ہو تو ایسا نہیں کرتے جاناں بیچ رستے میں تو چھوڑا نہیں کرتے جاناں تم کسی خواب کی صورت ہو مری آنکھوں میں خواب آنکھوں کو تو نوچا نہیں کرتے جاناں جاں سے پیاروں پہ بہت مان ہوا کرتا ہے یوں کسی مان کو توڑا نہیں کرتے جاناں یاد رکھنے کہ جو قابل ہوں انھی لوگوں کو اس قدر جلد تو بھولا نہیں کرتے جاناں عشق میں جھکنے س...