Posts

Showing posts from March 3, 2023

 دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ملا نہیں تو کیا ہوا، وہ شکل تو دکھا گیا

Image
 دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ملا نہیں تو کیا ہوا، وہ شکل تو دکھا گیا جدائیوں کے زخم، درد زندگی نے بھر دیئے تجھے بھی نیند آگئی، مجھے بھی چین آ گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دشمناں ہوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا پکارتی ہیں فرصتیں، کہاں گئیں وہ صحبتیں زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا یہ صبح کی سفیدیاں، یہ دوپہر کی زردیاں میں آئینے میں ڈھونڈتا ہوں، میں کہاں چلا گیا یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی وہ لہر کس طرف گئی، یہ میں کہاں سما گیا گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک  الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا *دیر تک رات اندھیرے میں جو میں نے دیکھا* *مجھ سے بچھڑے ہوئے اک شخص کا چہرہ ابھرا* *قسمیں دے دے کے مرے ہاتھوں نے مجھ کو روکا* *میں نے دیوار سے کل نام جب اس کا کھرچا* *موم بتی کو گلاتا رہا دھیرے دھیرے* *رات اندھیرے کا مرے کمرے میں بہتا لاوا* آفتاب شمسی *ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت* *لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے* *مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد و مجنوں* *عشق میں کتنا نام کمایا جا سکتا ہے* *یہ مہتاب یہ رات کی پیشانی کا گھاؤ* *ایسا زخم تو دل پر کھ...