Posts

Showing posts from February 6, 2023

 سنو نہ پلیز اک بار🥺 تم جانتی ہو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں

Image
سنو نہ پلیز اک بار🥺 تم جانتی ہو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں نہیں جانتی نہ؟اگر تم یہ جانتی ہوتی تو آج میں یوں در بدر کی ٹھوکریں نہ کھا رہا ہوتا پتا ہے تمہیں، تم نے آج تک مجھے کتنا رلایا ہے تمہیں میری چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ آ جاتا تھا اور میں پاگل غلطی نہ ہونے پر بھی سوری بول دیتا ہوں پتا ہے کیوں کیوں کے مجھے تم سے بے انتہا محبت تھی اور مجھے تم سے بدلے میں صرف محبت چاہیئے تھی توجہ چاہیئے تھی پر اب، اب میں جان گیا ہوں محبت میں کب یہ بات معنی رکھتی ہے کے ہم محبت کرتے ہیں.   تو اگلا بھی ہم سے محبت کرے پتہ ہے جب سے تُم چھوڑ کر گئی ہو میں اندر ہی اندر سے ختم ہو رہا ہوں میرا اللہ جانتا ہے میں کتنا اکلا ہوں تمھارے چھوڑ جانے سے میری زندگی میں خوشی نہیں رہی ارے بہت دل کرتا ہے تُم سے بات کرنے کو آواز سنے کو بہت تکلیف میں میری رات گزرتی ہے کوئی بھی نہیں ہوتا میرے پاس مجھے اس اذیت سے سکون دینے والا بہت دل کرتا ہے کھی سے ا جاؤ اور پتہ ہے میں روز ایک نئی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہوں رات کو مجھ پر نیند کی گولیاں بھی اثر کرنا چھوڑ گئی ہیں میں رات کے آخری پہر میں بہت روتا ہوں بہت دل کرتا ہے کوئی ہ...

آپ سب جانتے ہوں گے کہ کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلام کی دعوت سے روکنے کے لیے کئی حربے آزمائے 

Image
سوال :::  آپ سب جانتے ہوں گے کہ کفار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلام کی دعوت سے روکنے کے لیے کئی حربے آزمائے ،، ان میں سے ایک حربہ لالچ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مال ودولت ،، سرداری وغیرہ کی لالچ دی گئی ،، حالانکہ کفار بھی اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری لالچ میں نہیں آئیں گے تو پھر انہوں نے یہ مذاکرات کیوں کیے ؟؟؟  جواب :::  اللہ پاک نے اسلام کے دشمنوں کے شکوک وشبہات ختم کرنے کے لیے اپنے نبی کی زندگی کو اسرار و رموز سے بھر دیا ہے ،، اللہ پاک کا یہ ارادہ تھا کہ کفار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا کر لالچ دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیں تاکہ قیامت تک آنے والے انسانوں میں سے کوئی یہ نہ کہ سکے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعوت کے ذریعے بادشاہت اور مال ودولت چاہتے تھے ،، اس لیے اللہ پاک کی یہی مرضی تھی کہ کفار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیں اور انہیں بادشاہت کا لالچ دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی پیشکش کو ٹھکرا کر یہ واضح کردیں کہ میری د...

عتبہ بن ربیعہ کون تھا ؟؟؟ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کون سی پیشکش لے کر آیا نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کیا جواب دیا ؟؟؟

Image
سوال :::  عتبہ بن ربیعہ کون تھا ؟؟؟ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کون سی پیشکش لے کر آیا نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کیا جواب دیا ؟؟؟ مکمل واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کریں۔۔۔ ۔ جواب :::  عتبہ بن ربیعہ سردار ،، صاحب بصیرت اور صاحب رائے شخص تھا۔۔۔اس نے قریش سے کہا کہ کیا میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جاؤں تاکہ ان سے کلام کروں اور ان کو کچھ پیشکش کروں ہوسکتا ہے وہ اسے قبول کرلیں اور جو وہ چاہیں ہم انہیں دیں تاکہ وہ ہم سے رک جائیں ؟؟؟ کفار نے کہا اے ابو الولید کیوں نہیں ؟؟؟ جاؤ اور ان سے بات کرو۔۔۔۔ چنانچہ عتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا "" اے بھتیجے خاندان میں آپ کو جو عزت اور اعلیٰ نسب حاصل ہے اسے آپ جانتے ہیں ،، لیکن آپ قوم کے پاس ایک بہت بڑا معاملہ لے کر آئے ہیں اس کے ذریعے آپ نے اپنی قوم کی جماعت میں تفریق ڈال دی ہے اور قوم کے عقلمندوں کو بیوقوف کہا ہے ،، میں آپ کو کچھ پیشکش کرتا ہوں آپ اسے سنیں اور ان میں غور کریں ہوسکتا ہے آپ بعض پیشکش ک...

بادشاہوں یا فقیروں کا مکاں دیکھے گی کیا محبت بھی فلاں ابنِ فلاں دیکھے گی

Image
بادشاہوں یا فقیروں کا مکاں دیکھے گی کیا محبت بھی فلاں ابنِ فلاں دیکھے گی دستِ شفقت نہ رہے باپ کا جس کے سر پر اس کی جانب بھری دنیا بھی کہاں دیکھے گی کتنے دن اور خموشی سے سنیں دنیا کی ہم جو بولے تو ہماری بھی زباں دیکھے گی مسکرانے کی اداکاری ہے لوگوں کے لیۓ مری تنہائی مری آہ و فغاں دیکھے گی میں وہ ضدی کہ لڑائی نہ لڑی جاتی تو ڈٹ کے کہتی تھی تجھے اب مری ماں دیکھے گی اے مری عمرِ رواں دل پہ نہ لے وقت کا غم جس نے دیکھی ہیں بہاریں وہ خزاں دیکھے گی زوہا زکاء جب گُلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں  یاد  بُھولے  ھُوئے  یاروں  کے کرم آتے ہیں لوگ جس بزم سے آتے ہیں سِتارے لے کر ھم  اُسی  بزم  سے  بادیدۂ  نَم  آتے  ہیں   اب  ملاقات  میں  وہ  گرمئ جذبات کہاں اب تو رکھنے  وہ محبت کا  بھرم آتے ہیں  قُربِ ساقی کی وضاحت  تو بڑی مشکل ھے ایسے لمحے تھے  جو تقدیر سے کم آتے ہیں   چشمِ ساغرؔ!  ھے  عبادت کے تصّور میں سَدا دِل کے کعبے میں  خیالوں کے صنم  آتے ہیں​ ساغر صدیقی ...