دوسری طرف ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرک و گمراہی کے کسی فعل میں شریک ہوئے ہوں
بسم الله الرحمن الرحيم اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔ ("" سیرت النبی کریم ﷺ "") (کل 353 قسطیں ہیں قسط نمبر 35) *جنگ فجار اور معاہدہ حلف الفضول:* مستند روایات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لڑکپن اور زمانہ شباب دور جاہلیت کے تمام اکل و شرب، لہو و لعب اور دوسری تمام ناپسندیدہ اقدار سے پاک رہا، باوجود اس کے کہ عرب معاشرہ سر تا پا بدکاری اور بےحیائی میں ڈوبا ہوا تھا اور ایسے تمام بداعمال عرب معاشرہ میں نہایت ہی پسند کیے جاتے تھے، اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک کو ان سے محفوظ رکھا، اس کھلی بدکاری کے ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم عمر نوجوان جب جوانی کی خرمستیوں میں ڈوبے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے عین الٹ طریق پر اپنی راست بازی اور پاکیزگی میں مکہ کے صالح ترین انسان کے طور پر سامنے آئے۔ دوسری طرف ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرک و گمراہی کے کسی فعل میں شریک ہوئے ہوں، خانہ کعبہ کے طواف کے دو...