یہ ہے اجمیر شریف کی وہ مشہور زمانہ دیگ جس میں چڑھاوے اور نذرانے کے طور پر لاکھوں کی مالیت کی رقم، زیورات اور دیگر اشیاء ڈالی جاتی ہیں
یہ ہے اجمیر شریف کی وہ مشہور زمانہ دیگ جس میں چڑھاوے اور نذرانے کے طور پر لاکھوں کی مالیت کی رقم، زیورات اور دیگر اشیاء ڈالی جاتی ہیں۔ بھولے بھالے ان پڑھ جاہل مسلمان عقیدت اور محبت میں سرشار ہو کر اپنی خون پسینے کی کمائی اس کمرہ نما دیگ میں ڈالتے ہیں۔ وقت مقررہ پر کوئی خادم آتا ہے اور سیڑھیاں لگا کر اس دیگ میں اترتا ہے اور نوٹوں کی گڈیاں، زیورات اور دیگر سامان نکال لیتا ہے۔ سکے رہنے دیئے جاتے ہیں۔ پھر اسی دیگ میں لنگر کا کھانا بنتا ہے اور بدعت ہے کہ جس سائل کی پلیٹ میں کھانے کے ساتھ سکہ نکل آیا اس کی مراد پوری ہوگی۔ اس پر باباجی مہربان ہوگئے۔ میں کسی کے عقیدے یا مسلک کے خلاف نہیں ہوں۔ یہ انسان کا ذاتی عمل ہے لیکن مجھے بہت غصہ آتا ہے جب مذہب کے نام پر کچھ ٹھگ توہم پرست مسلمانوں کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھا کر ان کا مالی نقصان کرتے ہیں۔ ایک بے وقوف سے بے وقوف انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ عقیدت اور زیارت کے نام پر یہ ایک منظم بزنس ہے۔ ان سائلوں کے نذرانے لاکھوں کی مالیت کے ہوتے ہیں اور یہ وہاں کی روزانہ کی آمدنی ہے۔ اس میں سے چند ہزار کے لنگر کھلا کر بقیہ پیسے متولی اپنے ذا...