تمہارا حسن تمہارے خیال کا چہرہ شباہتوں میں چھپا لوں اگر اجازت ہو
عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو اک اور زخم کھا لوںاگراجازت ہو تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو تمہارا حسن تمہارے خیال کا چہرہ شباہتوں میں چھپا لوں اگر اجازت ہو تمہیں سے ہے مرے ہر خوابِ شوق کا رشتہ اک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو تھکا دیا ہے تمہارے فراق نے مجھ کو کہیں میں خود کو گرا لوں اگر اجازت ہو برائے نام بنامِ شبِ وصال یہاں شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو جون ایلیا شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی ایک ملال کا سا حال محو تھا اپنے حال میں رقص و نوا تھے بے طرف محفلِ شب بپا بھی تھی سامعۂ صدائے جاں بے سروکار تھا کہ تھا ایک گماں کی داستاں بر لبِ نیم وا بھی تھی کیا مہ و سالِ ماجرا، ایک پلک تھی جو میاں بات کی ابتدا بھی تھی بات کی انتہا بھی تھی ایک سرودِ روشنی خیمۂ شب کا خواب تھا ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی دل تیرا پیشۂ گلہ کام خراب کر گیا ورنہ تو ایک رنج کی حالتِ بے گلہ بھی تھی دل کے معاملے جو تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے اک ہوس تھی دل میں جو دل سے گریز پا بھی تھی بال و پرِ خیال کو ...