جب انگریز آکسفورڈ اور کیمبریج بنا رہے تھے
تحریر:برصغیر-نظامِتعلیم اور علم وفنون کا مرکز، کھوئی ہوئی تاریخ:- "" جب انگریز آکسفورڈ اور کیمبریج بنا رہے تھے اس وقت ہمارے حکمران تاج محل بنارہے تھے۔ چند سال سے اس ملک کے ٹیلیویژن چینلز پر تعلیم کے نام پر سفید جھوٹ پر مبنی پروگرام چلائے جا رہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ جب یورپ میں یونیورسٹیاں کھل رہی تھیں تو مسلم بادشاہ تاج محل اور شالامار باغ بنا رہے تھے.میری یہ تحریر مختلف مصنفین کے متعلقہ کالمز اور پروفیسرز، مورخین یا محققین کی تحقیق کے اس حصہ پر مبنی ہے جو میں نے ذاتی تحقیق کے بعد درست پائے، اس تحریر میں میرے اپنے الفاظ کم اور مندرجہ بالا شخصیات کے الفاظ زیادہ ہیں. تاریخ کی گواہی بعد میں پیش کروں گا پہلے بنیادی عقل کا ایک درس پیش کروں. ان چینلز یا پروگرامز میں اگر کوئی سمجھ بوجھ والا آدمی بیٹھا ہوتا تو اسکو سمجھنے میں یہ مشکل نہیں آتی کہ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئی، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نا تھیں. پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوت...