میں پنجاب یونیورسٹی کے کاغان نوران ٹور کے دوران ہمارے ساتھ ایک لڑکا انجینرنگ یونیورسٹی لاہور کاآوٹ سائیڈر تھا جس کا باپ ایکسائز انسپکٹر تھا
1990میں پنجاب یونیورسٹی کے کاغان نوران ٹور کے دوران ہمارے ساتھ ایک لڑکا انجینرنگ یونیورسٹی لاہور کاآوٹ سائیڈر تھا جس کا باپ ایکسائز انسپکٹر تھا اس نے اپنے برانڈ ڈ کپڑے،بوٹ،پرس بیگ وغیرہ دکھاکر بتایا کہ یہ سب میرے باپ کی حرام کی کمائی کا ہے مجھے اس بات سے بہت دھچکا لگا . کیونکہ رشوت اور حرام کی کمائی کے متعلق میری معلومات صرف کتابی اور سنی سنائی باتوں کی حد تک محدود تھیں جو کچھ اس طرح تھیں کہ حرام کھانے والوں کے منہ پر لعنت پڑ جاتی ہے ان کی دنیا وآ خرت خراب ہوتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں لگی ہوتی ہیں لیکن میرے سامنے سرخ و سفید بارونق چہرے والا سول انجینئرنگ کا ذہین سٹوڈنٹ کھڑا تھا جس نے پہلی بار میرے اندراخلاقیات مذہب ،نظریات اور عملی زندگی میں شدید تضاد کی جنگ چھیڑ دی جو آج 26 سال بعد بھی جاری ہے پھر میں نےان 26 برسوں میں بہت کچھ دیکھا_میں نے ان لوگوں کو بھی بیشمار اذیت ناک بیماریوں میں مبتلا دیکھا جن کے پاس کھانے کے کیلئے روٹی نہیں اور ان لوگوں کو بھی انتہائی شاندار اور پر آسایش زندگی گزارتے دیکھا جن کا ٹوٹل زریعہ معاش حرام کی کمائی یا ناجائز ہے بڑے بڑے سیاسی،مذہبی...