Posts

Showing posts from February 12, 2018

میں پنجاب یونیورسٹی کے کاغان نوران ٹور کے دوران ہمارے ساتھ ایک لڑکا انجینرنگ یونیورسٹی لاہور کاآوٹ سائیڈر تھا جس کا باپ ایکسائز انسپکٹر تھا

1990میں پنجاب یونیورسٹی کے کاغان نوران ٹور کے دوران ہمارے ساتھ ایک لڑکا انجینرنگ یونیورسٹی لاہور کاآوٹ سائیڈر تھا  جس کا باپ ایکسائز انسپکٹر تھا اس نے اپنے برانڈ ڈ کپڑے،بوٹ،پرس بیگ وغیرہ دکھاکر بتایا کہ یہ سب میرے باپ کی حرام کی کمائی کا ہے مجھے اس بات سے بہت دھچکا لگا . کیونکہ رشوت اور حرام کی کمائی کے متعلق میری معلومات صرف کتابی اور سنی سنائی باتوں کی حد تک محدود تھیں جو کچھ اس طرح تھیں کہ حرام کھانے والوں کے منہ پر لعنت پڑ جاتی ہے ان کی دنیا وآ خرت خراب ہوتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں لگی ہوتی ہیں  لیکن میرے سامنے سرخ و سفید بارونق چہرے والا سول انجینئرنگ کا ذہین سٹوڈنٹ کھڑا تھا جس نے پہلی بار میرے اندراخلاقیات مذہب ،نظریات اور عملی زندگی میں شدید تضاد کی جنگ چھیڑ دی جو آج 26 سال بعد بھی جاری ہے پھر میں نےان 26 برسوں میں بہت کچھ دیکھا_میں نے ان لوگوں کو بھی بیشمار اذیت ناک بیماریوں میں مبتلا دیکھا جن کے پاس کھانے کے کیلئے روٹی نہیں اور ان لوگوں کو بھی انتہائی شاندار اور پر آسایش زندگی گزارتے دیکھا جن کا ٹوٹل زریعہ معاش حرام کی کمائی یا ناجائز ہے بڑے بڑے سیاسی،مذہبی...

پہلے عدلیہ بحالی تحریک چلانے میں اہم کردار عاصمہ جہانگیر

Image
dailylivewrkap.blogspot.com پہلے عدلیہ بحالی تحریک چلانے میں اہم کردار عاصمہ جہانگیر کا تھا افتخارچوہدری اور اس کے بیٹے کی کرپشن کی کہانیاں دنیا جانتی تھی لیکن معلوم نہیں تھا تو عاصمہ جہانگیر کو نہیں تھا جو کہ ہر قومی معاملہ میں دور سے سازش کی بو سونگنے اور خفیہ ہاتھ تلاش کرنے کا دعوی کرتی تھیں۔مگر اپنے شعبے کے بڑے کی کرپشن نہیں جانتی تھیں ۔پھر جب جج واقعی دیانت داری سے فیصلے کرنے لگے تو عاصمہ جہانگیر کو یہ عدلیہ غلط لگنے لگی اور وہ کرپٹ سیاستدان کی حمایت میں شرمناک حد تک آگے نکل گئیں۔انہیں سرکاری کی وکا لت کے وجہ سے کافی پیسہ بھی ملا لیکن یہ معلوم نہیں تھا تھا کہ اتنا پیسہ استعمال کرنے کی زندگی بھی ہے یا نہیں۔عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کے حوالے سے بڑا نام تھیں لیکن کرپٹ لوگوں کی حمایت کرکے انہوں نے خود اپنی عزت خراب کی۔انہیں خود اپنی عزت کا احساس نہیں تھا تو   کے چاہنے والے دوسروں کو تلقین نہ کریں کہ ان کی عزت کی جائے۔ ن 2002 میں مشرف نے قاضی حسین احمد کا تعلق دہشت گردوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی تو عاصمہ جہانگیر قاضی حسین احمد کے حق میں کھڑی ہو گئیں اور کہا کہ آمر جان ...

کھڑکی کی شیشوں سے

Image
کھڑکی کی شیشوں سے بوچھاڑ ٹکرا رہی ہے,, اگر میز سے سب کتابیں ہٹا دوں تو چائے کے برتن رکھے جا سکیں گے یہ بارش بھی کیسی عجیب چیز ہے یوں بیک وقت دل میں خوشی اور ادسی کسی اور شے سے کہاں تم جو آؤ تو کھڑکی سے بارش کو اک ساتھ دیکھیں ابھی تم جو آؤ تو میں تم سے پوچھوں کہ دل میں خوشی اور اداسی.?? مگر جانتی ہوں کہ تم کیا کہو گے میری جان اک چیز ہے تیز بارش سے بھی تند جس سے بیک وقت ملتی ہے دل کو خوشی اور اداسی "محبت? مگر تم کہاں ہو?? یہاں سے وہاں رابطے کا کوئی وسیلہ بھی نہیں ہے بہت تیز بارش ہے اور شام گہری ہوئی جارہی ہے نجانے تم آؤ نہ آؤ.. میں اب شمع دانوں میں شمعیں جلا دوں کہ آنکھیں بجھا دوں.. )??

ایک شخص نے پہلی بار بیوی پہ ہاتھ اٹھایا

Image
ایک شخص نے پہلی بار بیوی پہ ہاتھ اٹھایا جس سے بچے خوف زدہ ہوکر رونے لگے۔ بچوں کا حال دیکھ کر بیوی رنجیدہ ہوکر روتے ہوئے کہنے لگی ,,,میں بچوں کی وجہ سے رو رہی ہوں۔ میں تیری شکایت کروں گی تیرا یہ خیال ہے کہ تم دروازے کھڑکیاں بند کرکے مجھے روک لو گے تو یہ ممکن نہیں ہے,, یہ کہہ کر بیوی حمام کی طرف چل پڑی ""شوہر نے سمجھا شاید یہ حمام کی کھڑکی سے نکلنے کی حماقت کرے، اس لیے شوہر کھڑکی کے پاس گیا. مطمئن ہونے کے بعد وہ اندر آیا اور اس کے حمام سے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا-- جب وہ حمام سے باہر نکلی تو چہرہ وضو کے پانی سے تر تھا اور لبوں پہ پیاری سی مسکراہٹ سجا رکھی تھی,, بیوی نے کہا: 'میں تیری اس سے شکایت کروں گی جس کے نام کی تو قسم اٹھاتا ہے۔ اس سے مجھے تیری بند کھڑکیاں بند دروازے سمیت کوئی بھی چیز نہیں روک سکتی.. اور اس کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے ہیں,, شوہر نے اپنا رخ بدلا اور کرسی پر بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ گہری سوچ میں ڈوب گیا,, اندر جا کر بیوی نے نماز ادا کی اور خوب لمبا سجدہ کیا۔ شوہر یہ سب دیکھ رہا تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوکر بارگاہِ ایزدی میں دعا کے لئے...