فتح کے جوش میں قتیبہ بن مسلم ایک غلطی کر لیا
فتح کے جوش میں قتیبہ بن مسلم ایک غلطی کر بیٹھے ۔ انھوں نے جہاد کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا۔ اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے ۔ جب یہ بے اصولی ہوئی ، تو اس وقت زمام خلافت حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ہاتھ میں تھی ۔ سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبہ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے خلیفہ وقت کو ایک قاصد کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔ قاصد نے دمشق پہنچ کر ایک عالی شان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر اس نے لوگوں سے پوچھا ۔ " کیا یہ بادشاہ کی رہائش ہے ؟ " لوگوں نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر کہا۔ " یہ تو مسجد ہے اور تو نماز نہیں پڑھتا کیا ؟ " " نہیں۔۔۔۔۔ میں تو اھلِ سمرقند کے دین کا پیروکار ہوں۔ " یہ سن کر لوگوں اسے خلیفہ کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔ قاصد لوگوں کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے خلیفہ کے گھر جا پہنچا، تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا ہے اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے ر...