ایک فن کار ماں جو بچوں کی خاطر پاگل بھکارن بن گئی
ایک فن کار ماں جو بچوں کی خاطر پاگل بھکارن بن گئیآپ کو ایک بات بتاؤں! آپ نے کوئٹہ دیکھا ہے؟ کچلاک کی جانب بھی گئے ہوں گے۔ ۔ ائرپورٹ روڈ کی پاگل بڑھیا اب بھی یہاں کے لوگوں کو یاد پڑتی ہے۔ جس کے دائیں ہاتھ میں ایک موٹی سے لاٹھی اور بائیں کندھے سے ایک بورا جھولتا تھا۔ سڑک کنارے کاغذ اور کولڈ ڈرنکس کے پلاسٹک کی بوتلیں اور ٹین کے خالی پیک چنتے اسے ہر گزرنے والا دیکھتا تھا۔ لاٹھی ٹیکنے اور سہارا لینے کے کام آتی تھی۔ کبھی کبھی غصے میں ہوتیں ۔۔ تو دونوں ہاتھوں میں تھامے فضا میں گھماتی چلتیں۔تب پٹرول پمپ، مارکیٹ، دکانیں، ہوٹل، ڈھابے، ریڑھی اور مسجد جہاں سے گزرتیں جس سے مطالبہ کرتی وہ دس روپے بخوشی نکال کر ہاتھ میں تھما دیتا۔ وہ بھیک مانگتیں مگر منت کرکے نہیں پوری بدمعاشی سے۔ گالیاں خوب دیتیں اور ڈانٹ کہہ کر کہتیں نکال دس روپے۔ بالوں کی سفید چاندنی میل کچیل میں دب گئی تھی۔ چہرے پر جھریاں لمبے گول دامن کی سلوٹوں سے زیادہ تھیں۔ لباس کا اصل رنگ کیا ہوتا تھا یہ تو کوئی اندازہ نہیں لگا سکا۔ لمبی پرانی سی کچیلی چادر اوڑھے بہت دور دور تک پیدل چلتیں۔گانے گاتیں، گالیاں دیتیں، ہائی...