معاملہ کچھ ایسا ہے دوستوں اور بھائیو کہ جو بندہ توحید کی بات کرے وہ وہابی ٹھہرا، جو نبیٌ کی بات کرے وہ بریلوی، صحابہ کی بات کرنے والا دیوبندی، اہلِ بیت کی بات کرنے والا اہلِ تشیع! اور یقین مانیں اس لحاظ سی کلیہ بڑا سادہ بنتا ہے کہ جو ان سب کی بات کرے وہ مسلمان اور میرے نزدیک یہ سب کچھ سب کا ہے۔ نہ تو میں دین میں تقسیم کی قائل ہوں اور نہ میں اس دین کے ٹکڑے کرنے کے حق میں ہوں۔ قرآن اور حدیث کے الفاظ بہت ٹیکنیکل ہوتے ہیں اور قرآن کہتا ہے کہ غور کرو! جب آپ کسی کے سامنے تفرقے والی واضع آیات رکھو گے تو وہ آپ کو 72 فرقوں والی حدیث سنا دے گا۔ حدیث میں لکھا ہے کہ 72 فرقے بنیں گے یہ نہیں لکھا کے فرقے بناؤ۔ حدیث میں تو لکھا ہے کہ قیامت آئے گی تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ساری دنیا کو آگ لگا دی جائے اور حشر برپا کرنے کی کوشش کی جائے؟ میرے نبیٌ کے امتیوں اور میرے بھائیو الله کا واسطہ ہے تقسیم ختم کرنے کی طرف قدم بڑھاؤ۔ ہم عظیم نبیٌ کے عظیم امتی ہیں ہمیں یہ سب کچھذیب نہیں دیتا!!!