پشاور جاتے ہوئے بہت لوگوں نے یہ مجسمہ دیکھا ہوگا
پشاور جاتے ہوئے درہ ادم خیل چوک پر اپ میں سے بہت لوگوں نے یہ مجسمہ دیکھا ہوگا۔ لیکن اس پتھر کے مجسمے کے پیچھے ایک بہت بڑی تاریخ ہے۔ لیکن اپ نے کبھی یہ جاننے کی زحمت نہیں کی کہ اخر یہ بندہ ہے کون ؟ خیر اپکا اس سے کیا لینا دینا۔ (مولانا بجلی گھر کی یاد اگئ)انتہائ افسوس کے ساتھ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہمارے ڈیجیٹل نوجوان اس تاریخ کے حوالے سے اندھے، بہرے اور گونگے ہیں۔ جی ہاں ! یہ مجسمہ مرد /پشتون عجب خان افریدی کا ہے۔انگریز سامراج کے مخالف 1923ء میں درہ آدم خیل کے غازی عجب خان آفریدی کی لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی. ۔ جب غازی عجب خان انگریز کے کوہاٹ فوجی چهاونیوں اور دیگر مراکز کو حملوں کا نشانہ شروع کیا. فوجی چهاونیوں سے باری اسلحہ نکلنے کے ساتھ ساتھ بہت فوجیوں کو قتل کرتے تهے. جس پر انگریز انٹیلی جنس اداروں عجب خان آفریدی کو حملوں کا زمہ دار ٹہرایا۔. ایک دن اچانک انگریز فوج نے عجب خان آفریدی کے گهر کا محاصرہ کرکے گهر کا تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ گھر کے چار دیواری کی عزت پامال کی اور انکی والدہ محترمہ سے بدسلوکی سے پیش ائے۔ جس پر عجب خان آفریدی کے ماں ...