Posts

Showing posts from March 21, 2025

دِل یہ کہتا ہے اسے لوٹ کے آنا ہے یہیں یہ دلاسہ مجھے پاگل نہیں ہونے دیتا

 سکون کیسے مجھے آئے تیری فرقت میں بغیر ماں کے بھلا بچہ کیسے سو جائے تمہارے بعد مجھے بے گھری ملی ایسے یتیم لڑکی کو جیسے طلاق ہو جائے عدیل عادی  ہائے اس کا وہ دیکھنا مجھ کو  ہاے مجھ کو مرا حسیں لگنا عدیل عادی بیچ دینا کمائی عمروں کی  اس کے قدموں میں جا کے گھر لینا خودکشی کے کئی طریقے ہیں سب سے مشکل ہے عشق کر لینا عدیل عادی  اے پاروں وی تیڈے شہر دے لوگاں نال نئیں بنڑدی او آہدے ہِن چن سوہنڑاں ہے میں آہدا ہاں توں ہیں عدیل عادی میں ہر وہ رات نہیں بھولتا جس میں میرا دم گھٹا تھا ۔ دل اداسی میں ڈوبا تھا ۔ اور مجھے اپنے آس پاس کوئی نہ ملا ۔ میں مرا نہیں ۔ دنیا ختم نہیں ہوئی ۔ لیکن مجھے احساس ہوا کہ تمہیں جینے کے لیے اپنے آپ میں مضبوط ہونا چاہیے ;")  خلیل جبران میں شب گزیدہ سحر ہوں مگر یہ دل کا گماں  کہیں چراغ سرِ راہ گم نہیں ہوتا علیزے احمد  "سکون کیجیئے ، یہ دنیا آپ کی اور میری اداسی سے بدل تھوڑی نہ جائے گی۔"  اگر میں سورج کے ساتھ ڈھلنے سے بچ گیا تو  کہاں گزاروں گا شام سوچا ہوا ہے میں نے سلیم کوثر  اگر ہو کُچھ اُمید تو ، ہو جاؤں پُرسُکوں!!!!...

دِل یہ کہتا ہے اسے لوٹ کے آنا ہے یہیں یہ دلاسہ مجھے پاگل نہیں ہونے دیتا

 سکون کیسے مجھے آئے تیری فرقت میں بغیر ماں کے بھلا بچہ کیسے سو جائے تمہارے بعد مجھے بے گھری ملی ایسے یتیم لڑکی کو جیسے طلاق ہو جائے عدیل عادی  ہائے اس کا وہ دیکھنا مجھ کو  ہاے مجھ کو مرا حسیں لگنا عدیل عادی بیچ دینا کمائی عمروں کی  اس کے قدموں میں جا کے گھر لینا خودکشی کے کئی طریقے ہیں سب سے مشکل ہے عشق کر لینا عدیل عادی  اے پاروں وی تیڈے شہر دے لوگاں نال نئیں بنڑدی او آہدے ہِن چن سوہنڑاں ہے میں آہدا ہاں توں ہیں عدیل عادی میں ہر وہ رات نہیں بھولتا جس میں میرا دم گھٹا تھا ۔ دل اداسی میں ڈوبا تھا ۔ اور مجھے اپنے آس پاس کوئی نہ ملا ۔ میں مرا نہیں ۔ دنیا ختم نہیں ہوئی ۔ لیکن مجھے احساس ہوا کہ تمہیں جینے کے لیے اپنے آپ میں مضبوط ہونا چاہیے ;")  خلیل جبران میں شب گزیدہ سحر ہوں مگر یہ دل کا گماں  کہیں چراغ سرِ راہ گم نہیں ہوتا علیزے احمد  "سکون کیجیئے ، یہ دنیا آپ کی اور میری اداسی سے بدل تھوڑی نہ جائے گی۔" 🖤 اگر میں سورج کے ساتھ ڈھلنے سے بچ گیا تو  کہاں گزاروں گا شام سوچا ہوا ہے میں نے سلیم کوثر  اگر ہو کُچھ اُمید تو ، ہو جاؤں پُرسُکوں!!!! ...