Posts

Showing posts from January 31, 2018

گو کہ ہماری پیدائش سے کہیں پہلے مدرسہ کو سکول بنا دیا گیا تھ

مکمل تحریر اردو زبان کا زوال۔ مجرم کون؟ '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' ۔ گو کہ ہماری پیدائش سے کہیں پہلے مدرسہ کو سکول بنا دیا گیا تھا لیکن انگریزی زبان کی اصطلاحات دوران تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ جب میں پرائمری جماعت میں پڑھتا تھا تو تین چار الفاظ انگریزی زبان کے رائج تھے ہیڈ ماسٹر، فیس، فیل، پاس اور جمعرات کو لاسٹ  ورکنگ ڈے (کیونکہ ان دنوں اتوار کی بجائے جمعہ کے دن سرکاری چھٹی ہوتی تھی) کہا جاتا تھا اس دن آدھی چھٹی یعنی ہاف ڈے ہوتا تھا۔ جب میں تیسری جماعت میں آیا تو ایک نیا لڑکا ہماری جماعت میں داخل ہوا جو انگلش میڈیم سکول سے دو جماعتیں پڑھ کر آیا تھا اس کے  منہ سے میں نے پہلی مرتبہ لفظ پیپر سنا ورنہ ہم پرچا کہا کرتے تھے۔ مجھے یہ لفظ بہت عجیب سا لگا۔ چوتھی کلاس میں ہمارے ایک استاد صاحب آئے جنہوں نے کہا کہ مجھے استاد جی کی بجائے سر جی کہا کرو۔ یوں وہ استاد جی سے سر جی کہلانے لگے ان ...

راو انوار صاحب

راو انوار صاحب ! احساس ہوا کہ آسمان کب دور ہوتا ہے اور پیروں تلے زمین کب سمٹتی ہے؟ آپ کو یاد تو آتا ہوگا کہ یہ وہی کراچی ہے جہاں آپ کے گرگے کسی کے بھی گھر میں گھس کر شکار کھینچ لاتے تھے۔. روتی ہوئی مائیں چھاتیاں پیٹتی رہ جاتیں۔۔۔۔ بہنیں ننگے سر موبائلوں کے پیچھے دوڑتی رہ جاتیں۔ ۔۔۔بوڑھے باپ واسطے دیتے رہ جاتے ۔۔۔۔ لیکن آپکی ٹیم کی راہ کوئی نہ روک سکتا ۔۔۔۔شکاری شکار کھینچ لاتے پھر زندگیوں کا سودا ہوتا سانسوں کا بھاو تاو ہوتا جو دام چکا دیتا جان بچا لیتا جسکے کانپتے ہاتھ خالی ہوتے وہ ایدھی کے سرد خانے سے جواں لاشوں کا بوجھ کاندھوں پر لے لیتا راو صاحب! آج آپکو احساس تو ہوا ہو گا کہ جان بچانے کے لئے کیسے کیسے جتن کئے جاتے ہیں آپ کو نیند تو نہ آتی ہو گی ۔۔۔۔کھٹکے آہٹ پر دل دھڑک اٹھتا ہوگا پریشان ہو کر کھڑے ہو جاتے ہو گے.  انسان جو ٹھہرے ویسے تو آپ سند یافتہ بانکے لڑاکے ہیں ویسے یہ تو بتائیں کہ ایسے میں کسے پکارتے ہوں گے؟ اسی اللہ تعالی کو ناں زندگی دینے والے اور بچانے والے کو  ناں۔۔۔۔جسکے بے گناہ بندوں کی سانسیں چھین لیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔ کس منہ سے اس زات پاک کو پکارتے ہ...