لگا ھے ڈر کہ ، کہیں ھو نہ جاؤں پتھر کا پلٹ کے میں نے تُجھے ، میرے یار دیکھ لیا
تمہارے چہرے کو رغبت کی آنکھ سے ھم نے نہ چاھتے ھُوئے ، بے اِختیار دیکھ لیا لگا ھے ڈر کہ ، کہیں ھو نہ جاؤں پتھر کا پلٹ کے میں نے تُجھے ، میرے یار دیکھ لیا نظر کی بُھوک نے اوسان تیز کر ڈالے بس اِک جھلک میں تجھے ، بے شمار دیکھ لیا۔ بجھتی آنکھوں میں ترے خواب کا بوسہ رکھا رات پھر ہم نے اندھیروں میں اجالا رکھا زخم سینہ میں تو آنکھوں میں سمندر ٹھہرا درد کو میں نے مجھے درد نے زندہ رکھا میرا ایماں نہ ٹکا پائیں ہزاروں شکلیں میری آنکھوں نے ترے پیار میں روزہ رکھا کیا قیامت ہے کہ تیری ہی طرح سے مجھ سے زندگی نے بھی بہت دور کا رشتہ رکھا جانِ جاں ❤️ شدید اتنا رہا تیرا انتظار مجھے کہ وقت مِنّتیں کرتا رہا؛ "گزار مجھے" اب اپنا اپنا مقدّر شکایتیں کیسی تجھے بہار نے گُل دے دیے تو خار مجھے میں تیرا میرا تعلّق بچاتے جاں سے گیا تُو پھر بھی اپنوں میں کرتا نہیں شمار مجھے چلا میں روٹھ کر آواز تک نہ دی اس نے میں دل میں چیخ کے کہتا رہا، "پکار مجھے" بچھڑ کے تجھ سے میں اک سانس تک نہیں لوں گا خدا نے گر دیا دھڑکن پہ اختیار مجھے وفا کے نام پہ جو قتلِ ...