Posts

Showing posts from September 25, 2016

آزادی انسان کا پیدائشی حق ھے.

 یہ ہر غاصب جانت آزادی انسان کا پیدائشی حق ھے. ا ھے  کہ زیادہ دیر تک کسی قوم کو اس کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا . کشمیر بھی ایک ایسا ہی مسلہ ھے. آزادی کشمیری عوام کا حق ھے یہ بات اقوام عالم نے تسلیم کر رکھی ھے.  اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر یہ خطہ ارض ایک متنازعہ علاقہ ھے.  اور اس ادارے کی قراردادوں میں یہ بھی تسلیم کر لیا گیا تھا  کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق صرف کشمیری عوام کو ہی ھے. مگر طویل عرصہ گزر گیا یہ عالمی ادارہ اپنی ان قرارد دادوں پر عمل نہ کروا سکا. جس کی وجہ سے  اب تک ہزاروں کشمیری اپنی جانیں قربان کر چکے ھیں.  کشمیریوں کے قتل عام میں جہاں انڈیا ذمہ دار ھے وھیں اقوام عالم بھی کہیں نہ کہیں اس میں ملوث ھیں.  جو ظلم و بربریت انڈیا کشمیری مظلوم عوام پر ڈھا رھی ھے. اُس کے خلاف آواز اب تو انڈیا کے اندر بھی باضمیر لوگ اُٹھا رھے ھیں . مگر افسوس کہ مجموعی طور پر اقوام عالم بےحسی اور بے ضمیری کا مظاہرہ کر رہی ھے. تکلیف دہ بات یہ ھے  کہ جن ملکوں نے طویل جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی تھی وہ بھی مجرمانہ خاموشی ...

ایک نوجوان اپنے بوڑھے ماں

ایک نوجوان اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ کسی مہنگے ہوٹل میں کھانا کھانے گیا۔ ماں باپ تو نہیں  چاہتے تھے، لیکن بیٹے کی خواہش تھی کہ وہ انہیں کسی مہنگے ہوٹل میں ضرور کھانا کھلائے گا، اِسی  لیے اُس نے اپنی پہلی تنخواہ ملنے کی خوشی میں ماں باپ جیسی عظیم ہستیوں کے ساتھ شہر کے مہنگے ہوٹل میں لنچ کرنے کا پروگرام بنایا۔ باپ کو رعشے کی بیماری تھی، اُسکا جسم ہر لمحہ کپکپاہٹ میں رہتا تھا، اور ضعیفہ ماں کو دونوں آنکھوں سے کم دیکھائی دیتا تھا۔ یہ شخص اپنی خستہ   حالی اور بوڑھے ماں باپ کے ہمراہ جب ہوٹل میں  داخل ہوا تو وہاں موجود امیر لوگوں نے سیر سے پیر تک اُن تینوں کو یوں عجیب و غریب نظروں سے دیکھا جیسے وہ غلطی سے وہاں آ گئے ہوں۔ کھانا کھانے کیلئے بیٹا اپنے دونوں ماں باپ کے درمیان بیٹھ گیا۔  وہ ایک نوالہ اپنی ضیعفہ ماں کے منہ میں ڈالتا اور دوسرا نوالہ بوڑھے باپ کے منہ میں۔ کھانے کے دوران کبھی کبھی رعشے کی بیماری کے  باعث باپ کا چہرہ ہل جاتا تو روٹی اور سالن کے ذرے باپ کے چہرے اور کپڑوں پر گر جاتے۔ یہی حالت ماں کے ساتھ بھی تھی، وہ جیسے ...