چھیکڑی
چھیکڑی خط ^^^^^^^^^^^^^^ ___________ جہاز تیس ہزار فٹ کی بلندی پر محوِ پرواز تھا۔ پُرسکون، آرام دہ فلائٹ، بزنس کلاس کا بااخلاق اسٹاف اور ہر طرف خاموشی۔ مدھم روشنیوں میں ہر کوئی سونے کے لئے اپنی سیٹوں کو ایڈجسٹ کر رہا تھا۔ عبداللہ کی آنکھوں پر نیند طاری تھی۔ وہ بھی نیم غنودگی میں تھا کہ اچانک جہاز کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔ لائٹس جل اٹھیں اور ایمرجنسی سائرن کی آواز سے جہاز گونج اُٹھا۔ پائلٹ نے اعلان کیا کہ جہاز کا ایک اِنجن فیل ہو گیا ہے۔۔ اور دوسرے میں بھی کچھ خرابی معلوم ہوتی ہے۔ جہاز دس منٹ میں کریش لینڈنگ کرے گا۔ دعائیں مانگ لیجیئے۔ مسافروں کی سانسیں اوپر کی اوپر، نیچے کی نیچے رہ گئیں۔ کسی کو موت سے پہلے مر جانے کی عکس بندی کرنی ہو تو یہ بہترین موقع تھا فرطِ جذبات اور غصّے سے آگے والی سیٹ کے بزنس مین صاحب چیخنے لگے۔ ’’کیا بےہودہ بات ہے، بکواس کرتے ہو، تمہیں معلوم نہیں میں کون ہوں، میرے اتنے بزنس ایئرہوسٹس نے بات کاٹی ’جناب چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ تھوڑی دیر میں ہم سب میتوں میں بدل جائیں گے۔‘‘ ’’میں آپ لوگوں کے لئے ایک آخری کام کر سکتی ہوں،‘‘ وہ کچھ سوچتے ہ...