Posts

Showing posts from September 24, 2016

ہد ہد کی بینائی۔اور قضا اور تقدیرکا پردہ

ہد ہد کی بینائی۔اور قضا اور تقدیرکا پردہ ایک بار حضرت سلمان علیہ السلام نے سارے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ دربار میں حاضر ہوں۔ اور سب اپنا اپنا کمال جو وہ رکھتے ہیں بیان  کریں*۔ چناچہ سارے پرندے حاضر ہو گئے اور سب نے اپنا اپنا کمال بیان کرنا شروع کیا۔ ہدہد کی باری آئی تو وہ کہنے لگا۔ "حضور! مجھ  میں یہ کمال ہے کہ میں آسمان کی بلندیوں پر بہت اونچا اڑُتا ہوں۔اور اتنی دور سے بھی زمین کے اندر کی تمام چیزوں کو دیکھ لیتا ہوں*  اور بتا سکتا ہوں کہ زمین کے کس حصے میں پانی ہے اور کس حصے میں  نہیں "۔ہدہد کا بیان سن کر" کوا" بولا "اے اللہ کے پیغمبر !  ہدہد جھوٹ بولتا ہے۔ اگر اس کی نظر اتنی ہی تیز ہے تو جب یہ جال میں پڑے ہوئے دانے کو دیکھ کر لپکتے ہوئے جال میں پھنس جاتا  ہے۔ اس وقت جال اسے نظر کیوں نہیں آتا۔اگر یہ سچا ہوتا تو یہ جال میں نہ پھنستا۔ "حضرت سلیمان علیہ اسلام نے ہدہد سے پوچھا "کوے  کے اس اعتراض کا تمہارے پاس کیا جواب ہے " ہدہد نے عرض کیا۔ "یانبی اللہ! نظر تو میری واقعی اتنی ہی تیز ہے جتنی میں نے بتائی مگر جا...

طالب علم نے تمام سوالوں کے جواب صحیح دیئے

طالب علم نے تمام سوالوں کے جواب صحیح دیئے مگر اُسے پھر بھی فیل کر دیا گیا۔ سوال نمبر 1 : ٹیپو سُلطان کس لڑائی میں شہید ہوئے؟ جواب : اپنی آخری لڑائی میں سوال نمبر 2 : اعلانِ آزادی پر دستخط کہاں ہوئے ؟ جواب : صفحے کے آخر میں سوال نمبر 3 : طلاق کی بڑی وجہ کیا ھوتی ہے ؟ جواب : شادی سوال نمبر 4 : دریائے سندھ کہاں بہتا ہے ؟ جواب : زمین پر سوال نمبر 5 : آپ آٹھ لوگوں پر تین آم کیسے تقسیم کرو گے؟ جواب : ملک شیک بنا کر

چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا

چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا یہ بوڑھا مصّور ایسے خوبصورت مناظر تخلیق کرتا  کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔ گاؤں کے غریب اورمفلس مکین تو بس اتنا ہی جانتے تھے  کہ باہر کے شہروں سے امیراوررئیس لوگ ہی آ کر اس مصور کی تصویریں خریدتے تھے اور یہ مصور اُن سے اِن تصویروں کی عوض اچھی خاصی رقم وصول کرتاتھا. ایک دن گاؤں کا ایک مفلوک الحال اورغریب آدمی اُس مصور کے پاس گیا اور کہا,تُو بڑے پیسے کماتا ھے، کیا ہی اچھا ھو کہ اپنے اِن پیسوں  سے کچھ اس گاؤں کے غریب لوگوں پر بھی خرچ کر دیا کرے۔گاؤں کے اس   غریب قصائی کو ھی دیکھ لو، زیادہ مال ومتاع والا بھی نہیں,مگر جب بھی گوشت بناتا ھے آدھے سے زیادہ تو غریبوں میں مفت ھی بانٹ دیتا ھے۔ مصّور چُپ کر کے سُنتا رہا اور پھر خاموشی سے مُسکرا دیا۔ غریب آدمی غُصّے سے تِلملاتا ھُوا نکلا اور گاؤں بھر میں جا کر مشہور کر دیا کہ یہ مصّور ھے تو بہت ھی امیر مگر ہے انتہا بخیل اور  کنجوس بھی ھے۔ گاؤں کےباسی جو پہلے ھی اس کے پاس رئیس اورامیرلوگوں کی آمدورفت کی وجہ سے خاصے نالاں تھے اور بھی بدظن ھوتے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد یہ بوڑھا مص...