وہ بمشکل تین میل چلا ہوگا کہ اسے دوڑتے گھوڑوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیں
داستان ایمان فروشوں کی ۔ قسط نمبر۔64 اسلام کی پاسبانی کب تک کرو گے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔ ایلس جہاں کہیں بھی گئی اور اسے جو کوئی بھی لے گیا، رحیم کو اب یہ سوال پریشان کرنے لگا کہ وہ کہاں جائے، عکرہ واپس جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ قاہرہ جانے سے بھی ڈرتا تھا۔ اس نے اپنا فرض پورا نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنے کمانڈر عمران کو نہیں بتایا تھا کہ وہ جارہا ہے۔ سوچ سوچ کر اس نے ایک بہانہ گھڑ لیا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب قاہرہ کے بجائے کرک چلا جائے اور وہاں بتائے کہ اسے پہچان لیا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور جاسوس ہے۔ وہ بڑی مشکل سے بھاگ کر وہاں سے نکلا ہے۔ اسے مہلت نہیں ملی کہ عمران یا رضا کو اطلاع دے سکتا کہ اس کی گرفتاری کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے… یہ اچھا بہانہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے کوئی یہ تو نہیں کہے گا کہ کوئی ثبوت اور شہادت لائو۔ وہ پانی پی کر کرک کی سمت چل پڑا۔ اسے ایلس کی گمشدگی پریشان کررہی تھی اور اسے افسوس ہورہا تھا کہ اسے کبھی بھی پتا نہ چل سکے گا کہ ایلس کہاں غائب ہوگئی ہے۔ وہ بمشکل تین میل چلا ہوگا کہ اسے دوڑتے گھوڑوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیں۔ ا...