جہالتوں کے اندھیرے مٹا کہ لوٹ آیا..

راحت اندوری

جہالتوں کے اندھیرے مٹا کہ لوٹ آیا..

میں آج ساری کتابیں جلا کہ لوٹ آیا..



وہ اب بھی ریل میں بیٹھی سسک رہی ہوگی.

میں اپنا ہاتھ ہوا میں ہلا کہ لوٹ آیا...



خبر ملی ہے کہ سونا نکل رہا ہے وہاں..

میں جس زمیں پر ٹھوکر لگا کہ لوٹ آیا.



وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا..

میں اس کے تاج کی قیمت لگا کہ لوٹ آیا...
ر

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا