زینب کا قاتل وہ نہیں جو پکڑا گیا

جب بھی کسی پولیس یا ایجنسی کے اہلکار کو انٹیروگیشن سیل میں اینٹر کیا جاتا ہے تو 4 پرائمری اصول سمجھائے جاتے ہیں

1:( مجرم کی جگہ خود کو رکھیے۔)

(کونسا کام ہے جو اپ یہ جرم کرتے وقت کرتے ۔)

2:(مجرم کو معصوم سمجھنے کی غلطی مت کیجیے۔)

3: (ایک ہی بات مختلف طریقوں سے 10 بار کیجیے۔)

4:(مرڈر کی صورت میں جائے وقوع اور ڈیڈ باڈی کا بغور تجزیہ کیجیے۔)

اگر میں مجرم کی جگہ ہوتی اور میں 7 سال کی  عمر کے بچے کو اغوا کرتی تو سب سے پہلے اسے کہاں لے کے جاتی  جبکہ میرے گھر میں خود پانچ بہن بھائی ہوں  اور گھر بھی زینب کے گھر سے 8 گھر دور ہو میں اس گلی سے لے کے گزروں تو دونوں ہی اسی محلے میں رہتے ہیں دونوں کو گلی والے دیکھ سکتے ہیں۔

مالی حالت یہ کہ میں راج مزدور یعنی مستری کے ساتھ کام کرنے والا ہیلپر ہوں اور کبھی کبھی ہی کام کرتی ہوں تو اس صورت میں میں کراے پہ گھر نہیں لے سکتی تب میرا انتخاب ہو گاجو میری طرح کے کام کرتا ہو مل بانٹ کے کھاتا ہو جس کے گھر میں کوئی نا ہو جیسے کہ ڈیرے ٹائپ اڈا یہاں بچی چیخے تو آواز باہر نا جا سکے۔

ایسا ڈیرہ ذینب کے گھر کے پاس کونسا تھا (بابا رانجھا کا ڈیرہ)۔

میں چونکہ کام کبھی کبھار کرتی ہوں اس لیے میرا گزر بسر بھی اسی کام سے ہو گا یعنی کہ میں سہولت کار بھی ہوں۔

اب اتے ہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ پہ مقتولہ کو ایک سے زائد لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جو کہ اب کہا جا رہا ہے کہ نہیں ایک ہی ملزم تھا مقتولہ کو 3 روز تک زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد قتل کر دیا گیا. قاتل کو نعش ٹھکانے کے لیے بھی دو لوگوں کی ضرورت ہو گی جو کہ اردگرد نظر رکھیں اور نعش لے جاتے  وقت تاکہ کوئی دیکھ نا سکے ۔

اب قاتل  نے نعش ہائی وے پہ پھینکی اس کے لیے کوئی وہیکل استعمال ہوئی لیکن قاتل عمران کے پاس کسی قسم کی وہیکل نہیں اس کی مدد کس نے کی
پولیس کے اہلکاروں نے تھانے کے حدود کے چکر میں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک کر لاش مل گئی کا شور مچایا۔

جب سوشل میڈیا پہ ڈارک ویب کے حوالے سے قصور پورنو گرافی کے بارے میں شور اٹھا تب ہی kpk میں ایک دم ریپ کے کیسیز سر اٹھانے لگے جبکہ میں نے زینب کیس شروع ہوتے ہی کہا تھا اب ملک بھر میں ایسی واردات ہونگی جس سے قصور گینگ سے نظریں ہٹائی جا سکیں کہ یہ پورے پاکستان میں ہو رہا ہے۔

جب زینب کا کیس شروع ہوا اس دن سے روز ایک خبر پڑھی کے 8 بچیوں کا DNA ایک مجرم کے ساتھ میچ ہو گیا لیکن ذینب سے میچ نہیں ہوا اور وہ مجرم پولیس حراست میں ہے۔

اب پرسوں عمران علی کا DNA ہوا اور اس کا ذینب اور باقی 8 بچیوں سے میچ کر گیا۔

اب عقلمندوں سمجھاو کہ وہ جس کا ذینب کیس کے سٹارٹ میں ہی 8 بچیوں سے DNA میچ ہوا تھا وہ کون تھا نہیں یقین تو دو ہفتے کی ذینب کیس سے متعلق تمام نیوز دوبارہ پڑھو۔

اور تو اور ملزم عمران نے ایمان فاطمہ کا ریپ اور مرڈر بھی قبول کیا جس کے مجرم مدثر 2017 میں ان کاونٹر میں مارا گیا تھا۔

خادم اعلی تیرا سکرپٹ سلو ہے کیا
رانا ثناءاللہ زینب کے والد پر زور دیتا رہا کہ یہ بولو کہ عمران ہمارا رشتے دار ہے
کس لیے جناب

اس لیے کہ گینگ کی طرف کسی کا دھیان نا جائے
اگر ایسا ہے تو ملزم عمران تو پھر 8 بچیوں کا بھی رشتے دار ہوا جو مختلف علاقوں اور گلیوں میں رہتی تھی کیا وہ بچیاں ایک ٹافی کے لیے ملزم کے پیچھے چل پڑتی تھی اور  کسی کو ملزم کا بہلانا پھسلانا  نظر ہی نہیں اتا تھا
بڑا لوچا ہے جناب
حجاب رندھاوا

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا