اجی صاحب ترنگزئی جن کا اصلی نام فضل واحد تھا، ایک پشتون مجاھد اور آزادی کے لئے جنگ

اجی صاحب ترنگزئی جن کا اصلی نام فضل واحد تھا، ایک پشتون مجاھد اور آزادی کے لئے جنگ لڑنے والے جنگجو اور ایک سماجی کارکن تھے۔ وہ ایک شریف گھرانے میں ١٨٤۸ ء میں ترنگزئی کے مقام پر پیدا ہوے جو پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے کے ضلع چارسدہ میں ایک مشہور گاوں ہے..۔تعلیم
انکے والد محترم کا نام فضل احد تھا۔ اپنی بنیادی تعلیم اپنے گھر سے حاصل کرنے کے بعد حاجی صاحب ترنگزئی مزید تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند چلے گئے۔ وہاں پر انہوں نے شیخ الھند مولانا محمود الحسن صاحب سے تعلق جوڑ لیا اور ۱۸۹۰ ء میں ان کے ساتھ حج بیت اللہ شریف پر چلے گئے۔
برطانیہ کے خلاف معرکہ
واپسی پر انہوں نے برطانیہ کے خلاف ۱۸۹۷ ء میں سرحدی جھاد میاں حصہ لیا جو برطانوی سرکار کے خلاف صوبہ سرحد کے قبائل کا جھاد تھا.. یہ جھاد آخر کار ناکام رہا اور حاجی صاحب ایک بار پھر حج کے لئے چلے گئے۔ واپسی پر وہ زیادہ تر سماجی خدمت اور خاص طور پر تعلیم و تعلم میں مصروف رہے۔ اسی دوران انہوں نے خان عبدالغفار خان کے ساتھ گاوں گاوں پھرنا شروع کیا۔ یہ تحریک کارگر ثابت ہوئی اور پانچ سال میں تقریباً ۱۲۰ درسگاہیں قائم ہوئیں۔
گرفتاری، اور معرکے
اس پر حکومت برطانیہ نے منفی ردعمل ظاہر کیا .اور حاجی صاحب اور عبدالغفار خان پر برطانویوں کے مساوی ایک اور حکومت چلانے کا الزام لگایا۔ برطانویوں نے انہیں گرفتار کیا اور ان پر مقدمہ چلایا۔ ان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا گیا مگر ان کے پیروکاروں کو تین تین سال تک قید کی سزا سنائی گئی۔
۱۹۱۳ ء میں سر صاحبزادہ عبدالقیوم خان نے حاجی صاحب کو دارالعلوم اسلامیہ پشاور(اسلامیہ کالج) کے سنگ بنیاد رکھنے کے لئے چنا۔ جون ۱۹۱۵ ء میں برطانیہ سرکار نے انکو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ آدھی رات کو گرفتاری سے بچ کر انہوں نے پشاور چھوڑا اور اپنے بیٹوں اور بھروسا مند ساتھیوں کے ساتھ مھمند کے علاقے روانہ ہو گئے۔ مھمند پہنچنے کے چند دنوں کے بعد ہی انہوں نے سمرقند سے آئے کچھ مجاہدین کے ساتھ مل کر قریبی علاقوں میں موجود برطانوی فوج پر حملے شروع کر دئے.۔
سمرقند کے مجاھدین امیر نعمت اللہ خان کی قیادت میں تھے۔ اگست ۱۹۱۵ ء میں انہوں نے مردان کے علاقے رستم میں برطانوی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کر دیا.۔
۱۹۲۳ ء میں برطانویوں نے مھمند کے علاقے میں اس مقابلے کو ختم کرنے کے لئے سپاہی بھیجے۔ مگر اس بار کسی خون خرابے کے بغیر انہوں نے ایک معاہدہ کیا جس کے بعد برطانویوں نے اپنے سپاہی واپس کر لئے۔ یہ ایک عظیم فتح تھی جس کے بعد وہ مھمند میں ہی قیام پزیر ہو گئے اور ایک مسجد بنانے میں مصروف ہو گئے..۔
وفات
۱۹۳۶ ء میں حاجی صاحب بہت زیادہ بیمار ہو گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ بیماری بڑھتی گئی اور آخر کار ۱۴ دسمبر ۱۹۳۷ ء کو ٩١ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
انکا مقبرہ مقامی لوگوں کے لئے ایک مقدس زیارت بن گیا ہے۔ انکے بچوں نے اپنے والد کی قبر کے ساتھ ۱۹۷۹ ء میں ایک مسجد بنانی شروع کی جو ۱۹۹۰ ء میں مکمل ہوئی۔ یہ مسجد ترنگزئی بابا جی مسجد(لکڑو مھمند ایجنسی) کے نام سے مشہور ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا