یہ بغاوت نہیں ہے بھائی

یہ بغاوت نہیں ہے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تحریر۔ محمد سکندرشاہ ،، ٹنڈوالہیار
ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں طاقتور کے لئے کوئی قانون نہیں ہے ، طاقتور لوگوں نے اپنے ہر جائز ناجائز کام کو کوئی نہ کوئی چھتری فراہم کر رکھی ہے اس لئے مظلوموں کی فریاد شرارت اور آہیں بغاوت نظر آتی ہیں ۔۔
ایسا ہی معاملہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہے ، تقسیم ہند کے وقت یہ فارمولا طے پایا تھا کہ جہاں مسلم آبادی اکثریت میں ہوگی وہ علاقہ پاکستان کا حصہ ہوگا ، کشمیر میں 95 فیصد آبادی مسلمانوں کی تھی ، لیکن بدقسمتی سے وہاں حکومت سکھ رہنما مہا راجا ہری سنگھ کی تھی ۔۔

مسلمانوں کی واضح اکثریت کے باوجود ہری سنگھ کی کوشش تھی کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن جائے ، لیکن بانیان پاکستان اس بات پر راضی نہ تھے ، دوسری طرف مہا راجا ہری سنگھ بھی ہٹ دھرم انسان تھا ، وہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق میں رکاوٹ بن گیا ، جس پر قبائلی لشکر اکتوبر 1947 میں کشمیر میں داخل ہوا اور وہاں کی پبلک سپورٹ کی وجہ سے چند روز میں ہی سری نگر پہنچ گیا ، جب مہا راجا ہری سنگھ نے دیکھا کہ پورا کشمیر ہاتھ سے نکل رہا ہے تو اس نے بھارت سے اپیل کی کہ وہ قبائلی لشکر کا راستہ روکنے کے لئے اپنی فوج کشمیر میں بھیج دے ، بھارتی پنڈتوں نے صورتحال کا پورا فائدہ اٹھایا۔۔
اور شرط رکھ دی کہ بھارت اپنی فوج اسی صورت میں کشمیر میں بھیجے گا جب مہا راجا ہری سنگھ بھارت سے کشمیر کا باقاعدہ الحاق کریں گے ، ہری سنگھ کی من کی مراد پوری ہوئی اور اس نے فورا بھارت سے الحاق کرلیا ، بھارت کی درندہ صفت فوج کشمیر میں داخل ہوگئی ۔۔

جب پاکستان کو پتہ چلا کہ بھارتی سورما وہاں پہنچ رہے ہیں تو انہیں دھول چٹانے کے لئے بہادر ، نڈر پاک فوج کے دستے بھی کشمیر پہنچ گئے ، جب پنڈت نہرو نے دیکھا کہ قبائلی لشکر اور پاک فوج سے بھارتی فوج کو زلت آمیز شکست ہورہی ہے اور کشمیر کی آزادی یقینی ہے تو بھاگتا دوڑتا بھارت 13 اگست 1948 کو اقوام متحدہ پہنچا اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ پاک فوج اور قبائلی لشکر کو روکے ، اقوام متحدہ نے بھارت کی اپیل پر فیصلہ دیا کہ کشمیر میں جاکر ریفرنڈم کرالیا جائے ، کشمیر کے عوام کو مکمل حق ہے کہ وہ جس کے ساتھ چاہے الحاق کریں ، اقوام متحدہ کی قرارداد پر بھروسہ کرتے ہوئے پاک فوج اور قبائلی لشکر واپس لوٹ آئے ، لیکن بھارت کی درندہ صفت 7 لاکھ فوج آج بھی کشمیر میں موجود ہے ، کشمیر پر پاکستان کا کیس بہت مضبوط ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے وکیل یعنی حکمران کمزور ہیں ، اگر پاک فوج پشت پر نہ ہو تو ہمارے حکمران بھارت سے آلو پیاز کی تجارت کے لئے کشمیر کا سودا کرلیں ۔۔
لیکن یہ تو رب کریم کا شکر ہے کہ پاک فوج ایسے ایشوز پر پہرہ دے رہی ہے ، اس وقت پاکستان کے پاس آزاد کشمیر اور گلگت کا ملا کر تقریبا 40 فیصد حصہ موجود ہے جہاں کشمیری عوام اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی بسر کر رہی ہے ، لیکن کشمیر کے 60 فیصد سے ذائد حصے پر بھارت کی درندہ صفت فوج موجود ہے ، جس نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے ، درندہ صفت وحشی بھارتی فوج اب تک لاکھوں کشمیریوں کا خون بہا چکی ہے ، ہزاروں بچیاں اپنی عزتوں سے محروم ہو چکی ہیں ، معصوم بچے بھارتی فوج کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں ، کشمیر میں ظلم و تشدد کی داستانیں رقم ہورہی ہیں ، لیکن اقوام متحدہ کشمیر پر اپنا نامکمل ایجنڈا پورا کرانے میں ناکام نظر آرہی ہے ۔۔

بھارتی فوج کی درندگی کو بے نقاب کرنے کے لئے کروڑوں روپے کشمیر کمیٹی پر خرچ ہورہے ہیں ، لیکن ہمارے حکمرانوں کی بے فکری کی وجہ سے کشمیر کا ایجنڈا مکمل نہیں ہوپارہا ، ایک وقت تھا 1990 میں بے نظیر بھٹو صاحبہ پاکستان کی وزیراعظم تھیں ، میاں نوازشریف صاحب وزیراعلیٰ پنجاب تھے ، اس وقت 5 فروری 1990 کو پہلی بار کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں شٹرڈاون ہڑتال کی کال دی گئی ، میاں صاحب اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں نے قوم کو خواب دکھایا کہ بس کشمیر کی آزادی قریب ہے ، پوری قوم نے دلجمعی کے ساتھ کشمیر ڈے منایا ملک بھر میں شٹرڈاون رہا ، جلسے ہوئے ، جلوس ہوئے ، مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب پورے جوش و خروش سے 5 فروری 1990 کا دن یوم کشمیر کے طور پر منایا گیا۔

اس کے بعد 1991 سے تو 5 فروری کو ملک بھر میں عام تعطیل ہونے لگ گئی لیکن آپس کی بات ہے وہ جذبہ آہستہ آہستہ کم ہورہا ہے اس پر ہر پاکستانی کو فکرمند ہونا چاہیئے ، باقی ہمارے حکمرانوں کی مثال تو 2 طوطوں والی ہے کہ کسی پنجرے میں دو طوطے قید تھے ، دونوں طوطے ہر وقت سجدے میں رہتے ، مالک کو اپنے طوطوں کے نیک ہونے پر بڑا ترس آیا ، اس نے ایک طوطی لاکر پنجرے میں ڈال دی ، اس وقت ایک طوطا سجدے میں تھا ، دوسرا طوطا بولا اٹھ جا جس کو سجدوں میں مانگ رہا تھا وہ آگئی ہے ، حقیقت میں میاں صاحب بھی کشمیر کاز کو اقتدار کے لئے استعمال کر رہے تھے ۔۔

جب بار بار اقتدار مل گیا تو میاں صاحب نے بھی کشمیر کاز کو پس پشت ڈال دیا ہے ، لوگوں نے کشمیر کاز کو سیڑھی بنا کر اقتدار حاصل کیا لیکن الحمدللہ اہلسنت والجماعت پاکستان ہر سال 5 فروری کو اور اس کے علاوہ بھی بھارتی مظالم کو بھی اجاگر کرتی ہے اور کشمیری مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار بھی کرتی ہے ، اس سال بھی قائد اہلسنت ، نواب زمانہ ، سفیرامن حضرت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب کی ہدایت پر ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جارہا ہے ، ان شااللہ 5 فروری 2018 کو جلسے :: جلوس اور سیمینار منعقد ہوں گے قائد اہلسنت کے دیوانے ٹنڈوالہیار میں اس وقت بھی گلی گلی یکجہتی کشمیر ریلی کے اشتہار لگانے میں مصروف ہیں ، ان شااللہ 5 فروری کو یکجہتی کشمیر ریلی اور 10 فروری کو آزادی کشمیر کانفرنس ہوگی ۔۔

اہلسنت والجماعت پاکستان بغیر کسی سرکاری وسائل کے کشمیر کاز کو زندہ رکھے ہوئے ہے ، یہی ہماری حب الوطنی کا بہت بڑا ثبوت ہے ، عالمی طاقتیں بھی جان لیں ، کشمیر کے عوام مظلوم ہیں ، محکوم ہیں ، ظالموں نے ظلم و جبر سے ان کے حق کی آواز کو دبا رکھا ہے ، اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا بغاوت نہیں ہے ، حق خودداریت کی بات بغاوت نہیں ہے ، انسانی حقوق مانگنا بغاوت نہیں ہے ۔۔۔
یہ اکیسیویں صدی ہے اس میں انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح لکڑی کے اشارے پر چلانا ممکن نہیں ہے ، زندہ لوگوں کی آواز کو سننا ہوگا ، سرگوشیاں چیخیں بن جائیں اس سے پہلے سننا ہوگا ، کشمیر کے لوگ اپنے حق کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں ، کٹھ پتلی حکمرانوں کے زریعے ان کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ، کشمیر والوں کو حق رائے دہی کا حق ملنا چاہیئے ، کشمیری بھائیوں کی جدوجہد بغاوت نہیں ہے بھائی ، بغاوت نہیں ہے بھائی ، بغاوت نہیں ہے بھائی۔۔

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا