پہلے عدلیہ بحالی تحریک چلانے میں اہم کردار عاصمہ جہانگیر
dailylivewrkap.blogspot.com
پہلے عدلیہ بحالی تحریک چلانے میں اہم کردار عاصمہ جہانگیر کا تھا افتخارچوہدری اور اس کے بیٹے کی کرپشن کی کہانیاں دنیا جانتی تھی لیکن معلوم نہیں تھا تو عاصمہ جہانگیر کو نہیں تھا جو کہ ہر قومی معاملہ میں دور سے سازش کی بو سونگنے اور خفیہ ہاتھ تلاش کرنے کا دعوی کرتی تھیں۔مگر اپنے شعبے کے بڑے کی کرپشن نہیں جانتی تھیں۔پھر جب جج واقعی دیانت داری سے فیصلے کرنے لگے تو عاصمہ جہانگیر کو یہ عدلیہ غلط لگنے لگی اور وہ کرپٹ سیاستدان کی حمایت میں شرمناک حد تک آگے نکل گئیں۔انہیں سرکاری کی وکالت کے وجہ سے کافی پیسہ بھی ملا لیکن یہ معلوم نہیں تھا تھا کہ اتنا پیسہ استعمال کرنے کی زندگی بھی ہے یا نہیں۔عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کے حوالے سے بڑا نام تھیں لیکن کرپٹ لوگوں کی حمایت کرکے انہوں نے خود اپنی عزت خراب کی۔انہیں خود اپنی عزت کا احساس نہیں تھا تو
کے چاہنے والے دوسروں کو تلقین نہ کریں کہ ان کی عزت کی جائے۔
ن2002 میں مشرف نے قاضی حسین احمد کا تعلق دہشت گردوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی تو عاصمہ جہانگیر قاضی حسین احمد کے حق میں کھڑی ہو گئیں اور کہا کہ آمر جان بوجھ کر سیاستدانوں کا تعلق دہشت گردوں کے ساتھ جوڑ رہا ہے تاکہ سیاست دانوں کو بدنام کیا جا سکے ...۔
آج آصف لقمان قاضی صاحب اور سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ نے ان کے وفات پر گہرے دکھ ، رنج اور غم کا اظہار کیا ۔ یہ دکھ دنیا کے کونے کونے میں محسوس کیا جا رہا ہے ۔
ابھی سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ سے بات ہو رہی تھی ، وہ ہمیشہ شفقت فرماتی ہیں اور بیٹا کہہ کر بات کرتی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے عاصمہ جہانگیر کے گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں ۔ دُکھی ہیں کہ انسانی حقوق کے حوالے سے اب وہ آواز نہیں رہی جس کے صرف لفظوں سے بھی زخموں پر مرہم محسوس ہوتی تھی.. ۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک بار میریٹ ہوٹل میں مولانافضل الرحمان نے تقریر کی تو عاصمہ جہانگیر نے کھڑے پر انہیں تھپکی دی اور داد دی ۔ وہ جمہوریت ، آزادی اظہار ، پارلیمان کی بالادستی اور سول سپریمیسی پر یقین ہی نہیں ایمان رکھنے والی تھی ، اسے مادر جمہوریت کا خطاب دینا چاہیے جس نے ہم جیسوں کو سکھایا کہ جمہوریت کیا ہوتی ہے.. ۔
شکریہ عاصمہ آپ کی بدقسمتی کہ آپ کو دشمن بھی بونے ملے ، کاش کوئی ڈھنگ کا دشمن تو ملتا ... کے چاہنے والے دوسروں کو تلقین نہ کریں کہ ان کی عزت کی جائے۔
Comments
Post a Comment