چین نے دریائے سندھ پر گریوٹی ڈیم بنانے کی تجویز دے دی ھے

چین نے دریائے سندھ پر 40 ماحول دوست گریوٹی ڈیم بنانے کی تجویز دے دی۔ جن کی مالیت کالاباغ ڈیم سے دگنی مگر بجلی کی پیداوار 14گنا زیادہ یعنی 50 ہزار میگا واٹ ہو سکتی ہے۔
پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ملکی سا لمیت کیلئے نقصان دہ منصوبہ کی تعمیر پر زور دینے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کیا جائے، دوست ملک چین نے دریائے سندھ کے کناروں پر 40 ماحول دوست گریوٹی ڈیم بنانے کی تجویز دی ہے جس کی مالیت کالاباغ ڈیم سے دگنی مگر بجلی کی پیداوار چودہ گنا زیادہ یعنی پچاس ہزار میگا واٹ ہو گی جس پر عمل درامد سے قومی پیداوار اور برامدات میں زبردست اضافہ ہوگا اور پاکستان بجلی برامد کرنے والا ملک بن جائے گا۔

بدھ کویہاں جاری بیان میں ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ چینی تجویز قابل عمل ہے کیونکہ اس نے پہلے ہی چشمہ کے مقام پر 280 میگاواٹ کا ایک چھوٹا گریوٹی ڈیم بنایا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں بڑے ڈیموں کے مقابلہ میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اسکے علاوہ جاپان کی طرز پر بہتے پانی پر سستے جنریٹرز نصب کرکے فراوانی سے بجلی پیدا کی جا سکتی جسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم کے برعکس داسو ، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیموں سے مجموعی طور پر9520 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہوگی ، ان ڈیموں کے دیگر فوائد کالاباغ ڈیم سے زیادہ ہیں۔ داسو، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیموں کے بارے میں قومی اتفاق رائے موجود ہے، یہ پتھریلے پہاڑوں میں واقع ہیں، قریب آبادی بھی نہیں ، انکی انچائی اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کالا باغ ڈیم سے زیادہ ہے۔

داسو، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیم کی اپ رائزنگ ھو سکتی ہے جبکہ کالا باغ ڈیم کی اپ رائزنگ ممکن نہیں، داسو ، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیم میں سیلٹنگ کا مسئلہ بھی نہیں ہو گا جبکہ کالا باغ ڈیم کو 15 سال کے اندر ڈی سلٹنگ کی ضرورت ہو گی۔کالا باغ ڈیم سے تربیلہ ڈیم کوکوئی فائدہ نہیں جبکہ دیا میر بھاشا اور داسو ڈیم کے بنے سے تربیلہ کی زندگی میں 50 سال کا اضافہ ہو گا اس لئے انکی تعمیر جنگی بنیادوں پر کی جائے

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا