پاکستان نے اپنے مزائلو کا نام افغانیوں کے پر کیو رکھا
افغانی فیس بکیوں اور کچھ پاکستانی دانشوڑوں کے مُطابق پاکستان نے اپنے مزائیلوں کے نام افغانوں کے نام پرکیوں رکھے ہیں ؟
جواب حاضر ہے
ظہیرالدین بابر ۔۔۔۔۔ فرغانہ اُزبکستان کامُغل تھا نہ کہ افغانستان کا افغان
شہاب الدیgن غوری کا تعلق مشرقی ایران سے تھا نہ کہ افغانستان سے اور اُس کے دور میں افغانستان کا نام ونشان تک نہیں تھا بلکہ اس کی جگہ جو مُلک تھا اُس کا نام خُراسان تھا جس کے ایک حصے پر اس نے غوری ایمپائرقائم کی تھی اور شہر بسائے
محمود غزنوی کو تو بچہ بچہ جانتا کہ وہ سُبکتگین کا بیٹا تھا اور تُرک تھا نہ کہ افغان
جبکہ احمد شاہ ابدالی پنجاب کے شہر مُلتان میں پیدا ہوئے تو پھر یہاں سے اپنے والدکے ہمراہ جاکر اُنہوں نے جس سلطنت کی بنیاد رکھی وہ دُرانی ایمپائیر تھی نہ کہ افغانستان یہ موجودہ افغانستان تو 1747 میں موجودہ شکل میں پیدا ہوا بھی تو دُرانی ایمپائیر ہی کہلاتا تھا افغانستان کا لفظ اس کے سیاستدانوں نے اس کے لیئے اُنیسویں صدی میں استعمال کرنا شروع کیا ۔جبکہ احمدشاہ ابدالی کے کسی تصنیف میں لفظ افغانستان کا نام تک نہیں ہے ۔
یہ کس نے کہا کہ ہم نے افغانیوں کے نام پر اپنے میزائیلوں کے نام رکھے ہیں؟ اور چلو بالفرض اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ افغانیوں کے نام پر رکھے گئے ہیں تو پھر تو تمہیں خوش ہوجانا چاہیئے کہ کم ازکم ہم نالائق افغانی تو اس قابل نہیں تھے کہ ان مسلمان ہیروز کا نام زندہ کرسکیں چلو پاکستان نے کردیا اچھا ہے
لیکن مودی ہندو کے چیلے یہ کہاں برداشت کرسکتے ہیں کہ ہندوؤں کو خاک چٹانے والے ان مسلمان ہیروز کا نام زندہ ہو ان مسلمان ہیروز کے ادوار میں تو ہندوؤں کو بابر،غوری،ابدالی کے ناموں سے تکلیف ہوتی تھی لیکن آجکل ان کے نام سے بعض پنڈت نہرو کے چیلے افغانیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے
جبکہ حقیقت تو یہ ھے کہ افغانیوں کے پسندیدہ ببرک اور نجیب ہی ہیں
Comments
Post a Comment