ایک دن عمران خان پشاور جارہے تھے
ایک دن خان صاب پشاور کے کسی ہاسپٹل کے دورے پر تھا۔۔۔
جب وہ ہاسپٹل کے اندر جا رہا تھا تو اس نے روڈ پر دو بزرگ میاں بیوی دیکھیں جو گاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے۔۔۔
دورے کے بعد جب وہ 15 منٹ بعد واپس آرہا تھا تو وہ بزرگ میاں بیوی اسی طرح گاڑی کی انتظار میں تھے۔۔۔ خان صاب نے گاڑی روکی اور اس بزرگ میاں بیوی سے پوچھا کہ بابا بڑی دیر سے آپ لوگ ادھر کھڑے ہیں ۔۔
تو اس پر بزرگ نے کہا کہ بیٹا ہم غریب لوگ ہیں۔۔ اتنے پیسے ہے نہی کہ رکشہ یا ٹیکسی پر چلے جاؤ اس لیئے بس کے انتظار میں ہو۔۔۔
خان صاحب نے ان دونوں کو اپنے گاڑی میں بٹھاکر اسے اس کے گھر ڈرافٹ کیا۔۔۔ بزرگ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا کھانا تیار ہوگا کھانے کھا کے جاو۔۔۔
عمران خان کو دیر ہورہی تھی اس لیئے اس نے انکار کردیا کہ بابا اگر زندگی رہی تو پھر کبھی آپ کے ہاں کھانا کھالونگا۔۔۔ لیکن بابا نے اپنی زد نہی چھوڑی اور بابا کے اسرار پر خان صاحب بھی تیار ہوگیا اور بتایا کہ باقی لوگ کھانا کھا کے آئے ہیں صرف میں کھاونگا۔۔۔
خان صاحب کے ساتھ پرویز خٹک۔۔ شہرام خان-- عاطف خان۔۔ اسد قیصر۔۔ ۔۔ اسد عمر۔۔ جہانگیر ترین وغیرہ شامل تھے۔۔۔
بزرگ نے خان صاحب کو اندر اپنے گھر لے گیا۔۔۔ اور عمران خان کھانے کی دسترخوان پر نیچھے زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔ اتنے میں خان صاحب نے بزرگ سے پوچھا کہ آپ کے بچے نہی ہے کیا..؟
تو بزرگ نے کہا دو بیٹے اور 4 بیٹاں ہیں۔۔۔
خان صاحب نے ماشاءاللہ بولا اور کہا کہ آپ کے ساتھ آپ کے بیٹوں میں سے کوئ ہاسپٹل کیوں نہی گیا۔۔؟
تو بزرگ نے کہا کہ بڑا بیٹا مزدوری کرتا ہے شام کو آتا ہے اور سب سے چھوٹا بیٹا پڑھتا ہے۔۔۔ اور بیٹیوں کی شادی ہوئی ہیں۔۔۔
خان صاحب نے کھانا کھایا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔۔۔
۔
اس بزرگ کا جو بیٹا مزدوری کرتا تھا اب وہ جہانگیر ترین صاحب کے حجرے میں آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کرتا ہے۔۔۔ یعنی جہانگیر ترین نے اسے نوکری دے دی۔۔۔
اور بزرگ کا جو بیٹا پڑھتا تھا وہ اب نمل یونیورسٹی میں فری تعلیم حاصل کر رہا ہے۔۔۔۔
اور جہانگیر ترین صاحب نے اس بزرگ کو لودھراں میں پندرہ مرلے گھر دے دیا___
۔
#ایسا_ہے_میرا_لیڈر_عمران_خان
Comments
Post a Comment