سندھ میں چار سال پہلے گاڑی چوری ھوئی اب کہاں سے ملی؟ ؟
سندھ میں چار سال پہلے لوکل گورنمنٹ کی ایک گاڑی چوری ہو جانے کی رپورٹ درج کروائی گئی۔ آج معلوم ہوا کہ وہ گاڑی چوری نہیں ہوئی تھی بلکہ سندھ سرکاری کے اس وقت کے وزیر بلدیات، جناب جام خان شورو نے اپنے کسی قریبی عزیز کو تحفتاََ دے دی تھی۔ یہ گاڑی چار سالوں سے تھر میں چل رہی تھی جو کل، شراب کی بوتلوں کے ساتھ پکڑی گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چوری شدہ گاڑی کے لیے پیٹرول کی مد میں رقم اب تک سرکار کے خزانے سے جا رہی تھی۔
یہ وہی جام خان شورو ہیں جن کی کچھ وقت قبل ایک عورت کے ساتھ شراب پیتے اور ڈانس کرتے ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
مال مفت دلِ بے رحم۔۔۔ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ۔۔۔ ہر جانب بِلّے دودھ کی رکھوالی پر مامور ۔۔۔ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو عنوان مناسب جانیں، اس تحریر کو دے دیں۔
یہاں دو باتیں از بس اہم ہیں
اول یہ کہ جس رفتار سے حکمرانوں کی لوٹ مار کے قصے میڈیا پر دکھائے جا رہے ہیں، کیا اسی تیزی سے عدالتیں بھی کام کر رہی ہیں؟ اگر ہاں، تو اب تک کتنوں کو سزا ہوئی؟ ابھی پچھلے دنوں کراچی کے ایک غریب ریڑھی والے کے اکاؤنٹ سے کئی ملین روپے برامد ہوئے۔ بیچارہ پریشان ہو گیا کہ کس سخی نے اس کے خزانے کو بھر دیا۔ پھر کل پرسوں پنجاب کے ایک بے روزگار نوجوان کے اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے آ گئے۔ اپنی غربت و بے روزگاری سے پریشان نوجوان کو پتہ تب چلا جب ایف آئی اے والے پوچھ گچھ کے لیے اس کے گھر پہنچ گئے۔ یہ سب کیا ہے؟ ہے کوئی جو ان گتھیوں کو سلجھائے؟
دوسری اہم بات یہ کہ آپ جام خان شورو صاحب کے پیچھے نظر آنے والی کتب پر نظر ڈالیں۔ صاحب کا گیٹ اپ بتا رہا ہے کہ موصوف بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب واقع ہوئے ہیں۔ تو پھر ایک تعلیم یافتہ مہذب شخص اس طرح سرکار کا پیسہ لوٹ سکتا ہے؟ آگے بڑھیے۔۔۔
مشرف نے پڑھی لکھی پارلیمینٹ کے لیے ڈگری کی شرط رکھی جس کے بعد معاشرے کے تعلیم یافتہ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہم پر حکمرانی کے لیے ایوانوں میں پہنچے۔ مگر کیا اس سے کرپشن رک گئی؟ کیا ملک کے حالات بدل گئے؟ کیا انفرا اسٹرکچر بہتر ہوا؟ کیا عدالتوں میں انصاف کا بول بالا ہوا؟ کیا سسٹم میں بہتری آئی؟ کیا دفاتر سے رشوت ختم ہوئی؟ کیا محکموں سے کرپشن اور غبن کا سلسلہ بند ہوا؟
تجربہ بتا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور بصیرت کی نگاہ رکھنے والے بچشمِ سر دیکھ رہے ہیں کہ محض وائٹ کالر، پڑھے لکھے، اعلیٰ تعلیم یافتہ، مہذہب افراد کے بل بوتے پر تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی محض تبدیلی کے نعروں سے تبدیلی واقعی میں آ جائے گی۔ تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی؟ آگے بڑھیے ۔۔۔۔۔
تبدیلی آئے گی اخلاقی تربیت سے۔ اللہ کا خوف عام کرنے سے۔ آخرت کی جوابدہی کا احساس پیدا کرنے سے۔ قانون اور آئین پر اوپر سے نیچے تک عمل پیرا ہونے سے اور سب سے بڑھ کر یہ عدالتوں میں بے رحم اور یکساں عدل و انصاف مہیا کرنے سے۔
کیا اس ملک میں تبدیلی آ سکتی ہے جس میں عدالتوں تک میں انصاف مفقود ہو؟ جہاں ڈبل اسٹنڈرز چل رہے ہوں۔ جہاں راؤ انور جیسے بڑے مجرم آزاد پھر رہے ہوں لیکن مقتول کا بوڑھا باپ، جس کے ساتھ ملاقات کرکے ملک کا آرمی چیف انصاف کا وعدہ کرے، پھر وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہو؟
Comments
Post a Comment