دسمبر ۔۔۔۔ماہ قائد اعظم
قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد۔1942 سے 1945۔

عالمی سطح پر دوسری جنگ عظیم کے کئی ایک نتائج برآمد ہوئے۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جنگ کے آغاز پر جب انگریزوں نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کرکے اور ہندوستان کو بالواسطہ طور پر اس میں ملوث کیا تو انگریز کے اس اقدام کے نتیجے میں کانگریسی وزارتیں مستعفی ہوئیں۔۔

دسمبر 1940ء میں جاپان جرمنی کی طرف سے جنگ میں کود پڑا جس سے جنگ کا نقشہ یکسر تبدیل ہوا۔ جاپان کے پے درپے حملوں اور کامیابیوں سے جنوب مشرقی ایشیا جاپانیوں کے ہاتھ لگا اور اس کے ایک ماہ بعد رنگون پر بھی جاپانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اب وہ ہندوستان کی سرحدوں پر دستک دینے والے تھے۔ جاپانیوں کی ان پے درپے کامیابیوں نے ہندوستان میں انگریزوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا اور ان کی سلطنت کی بنیادیں متزلزل ہونے لگیں۔

کیونکہ ایک طرف ان کو جاپانیوں کا سامنا تھا تو دوسری طرف ہندوستان کے اندرونی حالات بھی سازگار نہ تھے۔ کانگریسی وزارتیں احتجاجاً مستعفی ہو گئیں تھیں۔ مسلم لیگ نے قرارداد لاہور کے ذریعے اپنے لیے ایک علیحدہ ملک کو منزل مقصود قرار دیا۔

تھا۔ جاپانیوں کا بہاؤ روکنے کے لیے انگریزوں کو ہندوستانیوں کے تعاون اور مدد کی اشد ضرورت تھی۔ اس خیال کے پیش نظر حکومت برطانیہ نے اپنے رویے میں تھوڑی نرمی اور لچک پیدا کی

مذکورہ حالات کے پیش نظر برطانوی وزیر اعظم چرچل نے  22 مارچ 1942ء کو سر اسٹیفورڈ کرپس کی سربراہی میں ایک مشن ہندوستان بھیجا ۔۔۔

جس کا مقصد ہندوستان کے سیاسی رہنمائوں کے ساتھ گفت و شنید کرکے ہندوستان کے آئینی مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔سر اسٹیفورڈ کرپس نے قائداعظم محمد علی جناح، پنڈل جواہر لعل نہرو، مہاتما گاندھی، ابوالکلام آزاد اور متعدد رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی تجاویز کا اعلان کیا جو کرپس تجاویز کہلاتی ہیں۔ ان تجاویز کے  اہم نکات مندرجہ ذیل تھے۔

1۔۔۔جنگ کے خاتمے پر ایک ممتخب کمیٹی کو ہندوستان کے لیے نیا آئین بنانے کی ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔

2۔۔۔۔مجوزہ آئین کے مطابق کوئی بھی صوبہ یا صوبے اگر چاہیں تو ہندوستان کی یونین سے الگ ہوسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے ایک علاحدہ حکومت کا قیام عمل میں لاسکتے ہیں۔

3۔۔۔۔جنگ کے دوران میں موجودہ آئین میں کوئی بڑی تبدیلی نہ ہوگی اور ہندوستان کا دفاع انگریز حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔

کوشش کی جائے گی کہ ہندوستان کی بڑی بڑی قومیتوں کے زعما کو ملکی کونسلوں، دولت مشترکہ اور اقوام متحدہ میں فوری اور مؤثر طریقے سے شرکت دلائی جائے۔

کانگریس نے کرپس مشن کو کلیتاً مسترد کر دیا۔ اور فوری طور پر ملک میں کانگریس کی خود مختار حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ نے بھی کرپس مشن کے منصوبے کو اس جواز پر مسترد کر دیا کہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک علاحدہ مملکت کے قیام کے لیے کوئی ٹھوس ضمانت نہیں دی گئی تھی۔
12 اپریل 1942ء کو سر اسٹیفورڈ کرپس بے نیل مرام وطن واپس لوٹ گئے۔

1942 میں کرپس مشن کی ناکامی کے بعد کانگریس نے "ہندوستان چھوڑ دو" کی تحریک کا نعرہ بلند کیا اور ساتھ ہی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

اس پر برطانوی حکومت مشتعل ہو گئی اور کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں کو پابند سلاسل کر دیا۔ جس سے ملک کی سیاسی فضا اور بھی مکدر ہو گئی اور پورے برصغیر میں تشدد کے واقعات کا آغاز ہوا۔ مسلم لیگ نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا، کیونکہ بقول قائد اعظم اس تحریک کا مقصد نہ صرف انگریزی حکومت کو اس پر مجبور کرنا ہے کہ وہ کانگریس کو اختیارات منتقل کر دے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے۔۔

کہ ہم اپنے لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ کانگریس کے آگے اپنا ہتھیار ڈال دیں  البتہ ہندوستان چھوڑ دو کے جواب میں نعرہ لگایا کہ ہندوستان تقسیم کرو اور چھوڑ دو۔

اگست 1947ء میں انگلستان میں لیبر پارٹی کی کامیابی کے بعد حکومت نے سال کے آخر میں ہندوستان میں عام انتخابات کرانے کااعلان کر دیا۔برصغیر میں عام انتخابات منعقد کروانا ضروری تھا۔ جنگ عظیم دوم کے خاتمے اور شملہ کانفرس کی ناکامی کے بعد یہ اندازہ لگانا لازم ہو گیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی عوام میں کیا حیثیت ہے اور وہ برصغیر کے مستقبل کے بارے میں کس جماعت کے مؤقف سے ہم آہنگی رکھتے ہیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ قائد اعظم کا مؤقف درست تھا یا غلط، واحد طریقہ تھا کی عوام سے رجوع کر کے ان کی رائے معلوم کی جائے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ دنیا کی نئی سپر پاور بن گیا۔ اس طرح حکومت برطانیہ پر بھی امریکا کا دبائو بڑھ گیا تھا کہ برصغیر کے سیاسی مسائل کا حل ڈھونڈا جائے۔۔۔

اس صورتِ حال میں برطانوی حکومت نے عوامی رجحانات کا پتہ چلانے کے کی خاطر عام انتخابات کا اعلان کیا۔ دسمبر 1945 ء میں مرکزی اسمبلی اور جنوری 1946 ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کروانے کا فیصلہ ہوا۔

تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔

انڈین نیشنل کانگرس کا منشور یہ تھا کہ جنوبی ایشیا کو ایک وحدت کی صورت میں آزاد کروایا جائے گا۔ تقسیم کی کوئی سکیم قابل قبول نہ ہو گی۔ کانگرس نے انتخابات میں "اکھنڈ بھارت" کا نعرہ لگایا۔ کانگرس کا دعوی تھا کہ وہ برصغیر میں رہنے والے تمام گروہوں اور فرقوں کی نمائندہ جماعت ہے اور مسلمان بھی گانگرس کے نقطۂ نظر سے ہم آہنگ ہے۔

آل انڈیا مسلم لیگ نے انتخابی اکھاڑے میں قدم اس دعوے کے ساتھ رکھا کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ مسلمان مسلم لیگ کے علاوہ کسی اور جماعت سے تعلق نہیں رکھتے۔ مسلم لیگ چاہتی ہے کہقرارداد پاکستان کے مطابق جنوبی ایشیا کو تقسیم کر دیا جائے اور مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کو مکمل اقتدار اعلی حاصل ہو جائے۔ قائد اعظم کا دعوی تھا کی عام انتخابات پاکستان کے بارے میں استصواب رائے(Referendum) ہوں گے۔ اگر مسلمان پاکستان کے حق میں ہیں تو وہ مسلم لیگ کا ساتھ دیں ورنہ اس مطالبہ کو از خود مسترد سمجھا جائے۔

تمام جماعتوں نے زبردست مہم چلائی۔ تمام جماعتوں کے قائدین نے پورے ملک میں دورے کیے۔ کانگرس نےیونینیسٹ پارٹی،

مجلس احرار، جمعیت العلمائے ہند اور دیگر اسلامی جماعتوں سے زبردست انتخابی اتحاد بنایا۔ اور مسلم لیگ کا راستہ روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔

دوسری جانب انتخابات چونکہ مسلمانوں کے لیے موت اور حیات کا معاملہ تھے اس لیے مسلم لیگ کے لیڈروں کے پورے ملک کے دورے کیے اور ہر کونے میں پاکستان کا پیغام پہنچایا۔ قائد اعظم نے اپنی خرابی صحت کے باوجود پورے ملک میں طوفانی دورے کیے اور مسلمانوں کا وقت کی اہمیت کا احساس دلایا۔

مسلم لیگ تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے لگی تھی۔ بہت سے مسلمان لیڈر دوسری جماعتوں سے کٹ کٹ کر مسلم لیگ میں شامل ہونا شروع ہو گئے تھے۔

محمد علی جناح نے اپنے جلسوں میں کھلم کھلا کانگرس کو چیلنج کیا کہ انتخابات میں مسلم لیگ، پاکستان کے بارے میں مطالبے کا سچا ثابت کر کے اور مسلمانان برصغیر کے لیے پاکستان تخلیق کر کے دم لیں گے۔ مسلمانوں نے بھی زبردست جذبات کا اظہار کیا۔ مسلم طلبہ اور طالبات میدان میں نکل آئے ۔

اور شہر شہر قریہ قریہ لیگی کارکنوں کی ٹولیاں پہنچیں۔ فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگی۔

مرکزی قانوں ساز اسمبلی کے انتخاب 27 نومبر  1945 کو کروائے گئے۔ یہ جداگانہ طریق انتخاب کی بنیاد پر منعقد ہوئے۔ پورے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے 30 نشستیں مخصوص تھیں۔ مسلم لیگ نے ہر نشست پر اپنے امیدوار کھڑے کیے۔
جنوری 1946 میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔

مرکزی اسمبلی میں مسلم سیٹوں کی تعداد: 30

مسلم لیگ کی جیتی ہوئی سیٹیں : 30

صوبائی اسمبلیوں میں مسلم سیٹوں کی مخصوص تعداد: 495

مسلم لیگ کی جیتی ہوئی سیٹیں : 434

یہ مسلم لیگ کی شاندار فتح تھی۔ کئی سیاسی جماعتوں نے کانگرس کی حمایت کی تھی لیکن مسلم لیگ نے ان سب کو شکست دی۔

27 نومبر 1945 کو منعقدہ ان  انتخابات نے دو قومی نظریہ کو ثابت کر دیا۔جس کی کانگریس ہمیشہ نفی کرتی رہی تھی۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد 30 دسمبر 1945 کو قائد اعظم نے ایک بیان میں مسلمانان بر صغیر سے اپیل کی کہ وہ انتخابا ت کی کامیابی پر 11 جنوری 1946 کو یومِ فتح منائیں۔

یہ قائداعظم محمد علی جناح کی سر اسٹیفورڈ کرپس کے ساتھ ملاقات کی تصویر ہے

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا