انکے پاس ایسی کونسی غیر معمولی طاقتیں ہوتی ہے
میں فقیروں ، درویشوں اور اولیا کرام کی کتب کو بہت شوق سے پڑھتا ہوں . اور ہمیشہ اوراق کے بیچ الفاظ کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہوں کہ انکے پاس ایسی کونسی غیر معمولی طاقتیں ہوتی تھی جس کی بنا پر وہ انسانوں کے اس جنگل میں بادشاہت کرتے تھے . میں ایک عام زندگی گزارنے کا تصور تک نہیں کر سکتا اسی وجہ سے مجھے چھوٹی عمر سے ہی سخت محنت کرنے کی عادت پڑ گئی . میں بچپن سے ہی بے چین طبیعت کا حامل رہا ہوں . چوبیس گھنٹے ایک ہی خیال میں غرق رہتا ہوں کہ میں پاکستان کے لئے ایسا کیا بیسٹ کر سکتا ہوں جو اس سے پہلے اس دنیا میں کسی نے نہ کیا ہو .اسی چیز کو لیکر جب ہم نے کتب کا مطالعہ شروع کیا تو میرے اساتذہ نے میری علم کی پیاس کو دیکھتے ہوۓ علامہ اقبال کی فسلفہ خودی پر لکھی گئی کتابیں فراہم کی اور ساتھ کہا کہ اسکو بار بار پڑھو کیونکہ یہ ہر وجود کو سمجھ میں نہیں انے والی . میں نے دل لگا کر ان کتابوں کا مطالعہ شروع کیا تو مجھ پر یہ راز بھی کھلا کہ علامہ صاحب نے اپنے کلام کو فارسی عربی اور اردو کو ملا کر ایسا بنا کر چھوڑا ہے کہ جیسے انھیں معلوم تھا کہ انکے کلام سے لال و موتی کوئی کاہل سست اٹھا کر نہ لیجائے. میں نے ایک ایک لفظ کی معنی نکال نکال کر سخت محنت سے انکی شاعری کو اپنے لئے آسان بنایا . وقت کے ساتھ ہی مجھے اندازہ ہوا کہ جس چیز کی مجھے تلاش تھی وہ علامہ صاحب کے ان پراسرار کتب میں موجود ہے . ایک خود دار اور صاحب کردار نوجوان کو جس طریقے سے علامہ صاحب تخلیق کرکے اور تربیت دیکراپنے کلام میں چھوڑ گئے ہیں اسکو وہاں سے صرف وہی نوجوان اٹھا سکتا ہے جس میں وہ تمام خوبیاں ہو جو کہ ایک شاہین کا خاصا ہوتی ہے . سچائی اور خوداری بہت بڑی طاقت ہے . میں نے اسی کا استعمال کرکے اپنے آپکو آج اس مقام تک پہنچایا ہے . بہت سارے نوجوان خواب تو دیکھتے ہیں مگر خواب کے لئے جو محنت اور سچائی درکار ہوتی ہے وہ اسکا استعمال نہیں کرتے نتیجہ آخر میں یہ نکلتا ہے کہ وہ مایوس ہوکر کسی کونے کدرے میں بیٹھ جاتا ہے اور اپنے ملک کے نظام کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے . اس کائنات میں جتنے بھی کام ہو رہے ہیں وہ سب اسباب کے دائرے میں ہو رہے ہیں ..یہاں کسی کے پاس بھی الہ دین کا چراغ نہیں جسے رگڑ کر جو چاہو حاصل کر جاؤ . مجھے جو سب سے بڑی چیز اور راز کی بات علامہ صاحب کے کلام سے ملی وہ یہ تھی کہ اپ تب تک دنیا پر حکومت نہیں کر سکتے جب تک اپ اپنے وجود کی ان روحانی طاقتوں سے اصل معنوں میں روشناس نہیں ہوتے جس کے ذریعے پہلے بھی ہمارے عظیم آباؤ اجداد نے دنیا کی تاریخ بدلی تھی ..
Comments
Post a Comment