جب بھارتی فوج نے کشمیر پر قبضہ کیا

تحریر_پڑنا_ضروری_ہے
جب 1948 میں بھارتی فوج نے کشمیر پر قبضہ کیا تو محب وطن پنجابی لڑنے پر آمادہ نہ تھے؛ سندھی اس جنگ میں کودے نہیں تھے؛ 

بلوچ اسے پرایا جنگ سمجھ کر لڑنا نہیں چاہتے تھے؛ مٹھی بھر نئی پاک فوج افرادی قوت اور وسائل کی بنیاد پر اپنے سے دس گناہ بڑی بھارتی فوج سے کشمیر آزاد کرانے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ آزمائش کی اس گھڑی میں بقول محب وطن پنجابی اشرافیہ فاٹا کے غدار؛ جاہل اور بلڈی قبائل پہاڑوں سے اترے اور فوج نے اپنی بندوقیں؛ گولیاں اور ہتھیار ان پشتون قبائل کے حوالہ کیے۔ قبائل نے کشمیر کے سنگلاخ پہاڑوں میں بھارتی فوج پر جوابی حملے کا آغاز کیا۔ 

بھارتی فوج شکست پہ شکست کھانے لگی اور قبائل آگے بڑھتے گئے .

اور کشمیر فتح کرتے گئے حتی کہ موجودہ آزاد کشمیر فتح کر لیا اور مزید آگے بڑھ رئے تھے کہ اقوام متحدہ نے بھارتی چیخ و پکار پر جنگ بندی کرائی۔
اس جنگ میں بیشمار پشتون شہید ھوئے لیکن ایک قدم پیچھے کی جانب پسپا نہ ھوئے اور نہ ہی کسی ایک پشتون نے ہتھیار ڈالے۔

 کردار و اقدار کا یہ عالم تھا کہ نہ صرف آزاد کشمیر پاک فوج کے حوالے کیا بلکہ وہ تمام بندوقیں؛ گولیاں اور ہتھیار بھی کشمیر سے واپسی پر فوج کے حوالے کیے جو فوج اور سرکار نے جنگ لڑنے کی خاطر ان پشتون قبائل کو دیے تھے۔ کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ پشتون قبائل نے اس جنگ کے بدلے پاک فوج یا حکومت پاکستان سے قیمت وصول کی ھو یا معاوضہ لیا ھو یا مراعات لیے ھو یا فلاٹس لیے ھو یا ملازمتیں وصول کیے ھو۔
اويس

حقیقت یہ ھے کہ پشتون رہنماؤں کے آباؤاجداد  نے بغیر مفاد؛ بغیر معاوضہ اور بغیر لالچ 1948 میں جانوں کے نذرانے پیش کرکے بھارتی فوج سے خونی جنگ لڑی
ھمیں کسی سے وفاداری کی سرٹفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں بلکہ ھماری وفاداری اور بہادری کا ثبوت ہماری تاریخ ھے جس کا اعتراف دنیا بھر کے تاریخ داں کرتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا