شوباز شریف نے اس قوم کو خوشخبری دی

شوباز شریف نے اس قوم کو ایک خوشخبری سنائی کہ سی پیک کے تحت لاہور میں چین نے لاہوریوں کو ایک تحفہ دیا اور چین لاہوریوں کے لیئے اورنج ٹرین بنائے گا-اور میڈیا کے لفافوں نے اس کی خوب تشہیر کی یہ خبر 2015 میں اڑائی گئی اور چین نے اسی وقت اس کی تردید کردی لیکن ان لفافوں نے اس کو بالکل کوریج نہ دی اور تقریبا 2 سال بعد یعنی 2017 کے اینڈ میں جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پی ٹی آئی کے لیڈران نے شور مچایا تو یہ لوگ اورنج ٹرین کے آفیشل ڈاکومینٹس میں سے کچھ چیزیں دینے کو تیار ہوئے جس میں یہ کلیئرلی لکھا تھا کہ یہ سی پیک کا حصہ نہیں ہے- صرف قوم کو ماموں بنانے کے لیئے یہ گیم ڈالی گئی اور اس کام میں لفافوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا- آج بھی کچھ اعلی پائے کے دانشوڑان اورنج ٹرین کو سی پیک کا حصہ سمجھتے ہیں-

آب آتے ہیں اورنج ٹرین کی کاسٹ پر- اورنج ٹرین کا ٹوٹل خرچہ اس وقت تک جو آچکا ہے وہ 268 بلین روپے ہے- آپ اس ٹرین بنوانے والوں کی عقل کا اندازہ کریں کہ ٹوٹل 27 کلومیٹر کا ٹریک ہے جس میں 25.4 کلومیٹر اونچائی اور 1.72 کلومیٹر زیر زمین ٹریک ہے- اور اس 27 کلومیٹر کے ٹریک پر الحمد اللہ 26 سٹاپ بنایئں گے- یعنی ہر سٹاپ تقریبا 1 کلومیٹر کا ہے- 

ٹرین کی زیادہ سے زیادہ سپیڈ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ایوریج سپیڈ 34 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی-اب آپ خود اندازہ لگایئں کہ سٹاپ کی لینتھ 1 کلومیٹر بھی نہ ہو تو ٹرین مینگو سپیڈ پکڑے گی- 

اورنج ٹرین کو بجلی کی فراہمی کے لیئے 54 میگا واٹ کے 2 پاور اسٹیشنز بنائے گئے جن میں سے ایک پاور اسٹیشن یو ای ٹی لاہور کے پاس ہے اور دوسرا ملتان روڈ پر ہے- اورپنجاب گورنمنٹ کا لیسکو کے ساتھ معاہدے میں یہ طے پایا ہے۔
 کہ لیسکو اورنج لائن ٹرین کے لیئے فی یونٹ 13 روپے چارج کرے گی اور یوں بجلی کی مد میں 1.10بلین ماہانہ اور تقریبا 13 بلین سالانہ خرچ ہوگا-

اورنج ٹرین لائن سالانہ 11.5  بلین خسارے میں چلے گی اور یہ خسارہ پورا کرنے کے لیئے وفاقی حکومت پنجاب کو اورنج ٹرین لائن چلانے کے لیئے 11.5 بلین روپے کی سبسڈی دے گی- اب آپ اندازہ کریں کہ اگر صرف 1 بلین روپے کی سبسڈی عوام کو دی۔

 ہو تو مہنگائی پر کافی حد تک کنٹرول پایا جاسکے گا- جیسے کہ شہباز شریف رمضان میں پورے پنجاب کو 7 ارب کی سبسڈی دیتا تھا- اور بغضیوں کے مطابق رمضان میں مہنگائی بالکل نہیں ہوتی تھی- تو 1 بلین میں تو 100 کروڑ ہوتے ہیں- 

اور 13 بلین جو بجلی کی مد میں لیسکو کو دینا اس 13 بلین روپے سے ہم بجلی کی مد میں عوام کو سبسڈی دے سکتے ہیں- اور اپنا بجلی کا خسارہ پورا کرسکتے ہیں-جیسا کہ پہلے بتاچکا ۔

کہ یہ سی پیک کے تحت پراجیکٹ نہیں تھا لیکن شوباز شریف اور لفافوں نے اس کو سی پیک کا حصہ بنادیا لیکن یہ قرضے پر بنائی گئی اورنج ٹرین ہے- اور 20 سال کی مدت میں 20 بلین سالانہ ادا کرنا ہے-جس میں سے 6 بلین سالانہ سود کی رقم ہے-

یہ فگر میں نے کسی حکومتی نمائندے کے نہیں اٹھائے بلکہ مختلف اوقات میں چھپنے والی انہی اخباروں سے اٹھائے ہیں جن کو آپ بھگوان مان کر دھڑا دھڑ شیئر کرتے ہیں- اب بھی کہیئے مہنگائی ہورہی ہے- اب بھی کہیئے یہ حکومت ناکام ہوگئی ہے- اب بھی کہیئے بجلی کے بل زیادہ آرہے ہیں۔

 اور گیس کے بل نے ہماری کمر توڑ دی-ہم کس کس کو رویئں-اگر اس کو بند کردیں گے تو لوگ کہیں گے کہ انتقام لے رہی پی ٹی آئی کی حکومت-اب کچھ شرمندہ نہیں ہونگے بلکہ درمیان میں بی آر ٹی کو لے آیئں گے-

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا