ڈزنی لینڈ

ڈزنی لینڈ  
مثل مشہور ہے کہ مراثیوں کے گھرلڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے اسے چُوم چُوم کر مار ڈالا ۔ ۔ ۔

برصغیر کے جہلا کے ہاتھ اسلام کیا لگا، انہوں نے اس کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا، اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں:


1۔ ایک دفعہ پیران پیر عبدالقادر جیلانی نے مرغی کا سالن کھاکر ہڈیاں ایک طرف رکھ دیں، ۔۔

ان ہڈیوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا  قُمْ بِاِذْنِ اﷲِ تو وہ مرغی زندہ ہوگئی ۔(سیرت غوث صفحہ 191)

2۔ ایک گوئیے کی قبر پرپیران پیر نے  قُمْ بِاِذْنی کہا قبر پھٹی اور مردہ گاتا ہوا نکل آیا ‘‘ (تفریح الخاطر صفحہ 19)

3۔ خواجہ ابواسحاق چشتی جب سفر کا ارادہ فرماتے تو دوسو آدمیوں کے ساتھ آنکھ بند کر فوراً  منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے ‘‘۔ (تاریخ مشائخ چشت از مولانا زکریا صفحہ 192)

4۔ سید مودود چشتی کی وفات ۹۷سال کی عمر میں ہوئی، آپ کی نماز جنازہ اول رجال الغیب (نادیدہ بزرگوں) نے پڑھی، پھر عام آدمی نے۔

 اس کے بعد جنازہ خود بخود اڑنے لگا، اس کرامت سے بے شمار لوگوں نے اسلام قبول کیا  ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ 140)

5۔ خواجہ عثمان ہارونی نے وضو کا دوگانہ ادا کیا اور ایک کمسن بچے کو گود میں لے کر آگ میں چلے گئے اور دوگھنٹے اس میں رہے آگ نے دونوں پر کوئی اثر نہ کیا اس پر بہت سے آتش پرست مسلمان ہوگئے ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ 124)

6۔ ایک عورت خواجہ فریدالدین گنج شکر کے پاس روتی ہوئی آئی اور کہا بادشاہ نے میرے بے گناہ بچے کو تختہ دارپر لٹکوادیا ہے چنانچہ آپ اصحاب سمیت وہاں پہنچے اور کہا ’

’الٰہی اگر یہ بے گناہ تو اسے زندہ کر دے‘‘  لڑکا زندہ ہوگیا اور ساتھ چلنے لگا یہ کرامت دیکھ کر (ایک)ہزار ہندو مسلمان ہوگئے ۔(اسرار الاولیاء صفحہ ۱۱۱۔۱۱۰)

7۔ ایک شخص نے بارگاہ غوثیہ میں لڑکے کی درخواست کی آپ نے اس کے حق میں دعا فرمائی اتفاق سے لڑکی پیدا ہوگئی۔۔

 آپ نے فرمایا اسے گھر لے جاؤ اور قدرت کا کرشمہ دیکھو جب گھر آیا تو اسے لڑکی کے بجائے لڑکا پایا ‘(سفینہ الاولیاء صفحہ ۱۷)

8۔ میاں اسماعیل لاہور المعروف میاں کلاں نے صبح کی نماز کے بعد سلام پھیرتے وقت جب نگاہ کرم ڈالی تو دائیں طرف کئی مقتدی سب کے سب حافظ قرآن بن گئے اور بائیں طرف کے ناظرہ پڑھنے والے۔ (حدیقہ الاولیاء صفحہ ۱۷۶)

9۔ ۔خواجہ علاؤالدین صابر کلیری کوخواجہ فریدالدین گنج شکر نے کلیر بھیجا۔ 

ایک روزخواجہ صاحب امام کے مصلے پر بیٹھ گئے لوگوں نے منع کیا تو فرمایا ’’قطب کا رتبہ قاضی سے بڑھ کر ہے‘‘لوگوں نے زبردستی مصلی سے اٹھادیا حضرت کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جگہ نہ ملی ۔

تو مسجد کو مخاطب کرکے فرمایا ’’لوگ سجدہ کرتے ہیں تو بھی سجدہ کر‘‘یہ بات سنتے ہی مسجد مع چھت اور دیوار کے لوگوں پر گرپڑی اور سب لوگ ہلاک ہوگئے ۔(حدیقہ الاولیاء صفحہ ۷۰)

اب آپ خود بتائیں، ایسی باتیں جب غیرمسلم سنیں گے تو کیا وہ اسلام قبول کریں گے؟ ہم سے زیادہ موحد تو شاید وہ ہوں گے۔

منقول

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا