تصوف پر تنقید

تصوف پر تنقید
___________*

دوست نے اعتراض کیا کہ آخر تمہاری تان تصوف ہی پر آکر  کیوں ٹوٹتی ہے ؟؟ آخر جب تعلیم میں تدریس میں ‘ فقہ میں ‘ قرآن فہمی میں ‘ حدیث فہمی میں نئے سے نئے علوم پیدا ہوئے انہیں قبول کیا گیا ,,

بلکہ ان کا آغاز کرنے والوں کی تحسین کی گئی تو تصوف ہی پر آکر کیوں تان ٹوٹتی ہے کہ یہ الف سے لے کر ے تک قابل رد ہے اور اس کی سند نہیں۔ ائمہ امت نے دین کے مختلف شعبوں میں استنباط و اجتہادات کیے ہیں وہ اجتہادات امت نے بحیثیت مجموعی قبول کیے ہیں۔
. امت کے اس قبول عام کی وجہ سے اب ان اجتہادات کی نوعیت محض کسی ایک امام یا فقیہ کے اجتہاد کی نہیں رہ گئی ۔ بلکہ اب وہ اسلام کے مین فریم کا حصہ بن گئے ہیں۔

جواب:.!

!مجھے اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تصوف میں مجاہدہ اور تزکیہ کے جو طریقہ متعارف کروائے گئے، وہ بدعات کے زمرے میں آتے ہیں اور پھر اس کے بعد تصوف میں الگ سے حلول، وحدت ا لوجود اور وحدت الشہود جیسے کفریہ و شرکیہ عقائد تک شامل کرلئے گئے اور پھر باقاعدہ انکا پرچار کیا گیا۔ امت میں بعد میں جس قدر خرابیاں پیدا ہوئی اور جس قدر بد عقیدگیاں در آئیں ان میں سے اکثریت کا ماخذ تصوف ہی تھا۔ نبی ﷺ کی ذات میں غلو ہو یا نور و بشر کی بحث، وسیلہ ہو یا کشف قبور یہ سب چیزیں تصوف کے راستہ سے ہی اس امت میں رواج پائیں ہیں۔

پھر تصوف کے ذریعے پھیلے ہوئے الحاد کا تقابل تعلیم، تدریس، فقہ، قرآن فہمی اور حدیث فہمی کے غلط استعمال سے پھیلنے والی تعلیمات سے کرنا بھی کچھ مناسب نہیں۔ کیونکہ تزکیہ نفس کے نام پر تصوف کے ذریعے جو الحاد برپا کیا گیا، مقدم الذکر علوم کے ذریعے اتنی خرابی امت میں کبھی نہیں آسکی، بلکہ سچ پوچھئے تو ان طریقوں اور علوم کے غلط استعمال سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں ان میں بھی تصوف کا ہی ہاتھ تھا۔ اور اسکی مثال شاہ ولی اللہ وغیرہ کی شکل میں بہت واضح ہے کہ شاہ ولی اللہ نے ساری زندگی قرآن و حدیث فہمی کا درس دینے میں گزار دی لیکن جب یہی قرآن و حدیث فہمی تصوف کی چھلنی سے نکلی تو انفاس العارفین اور درثمین کی شکل میں نمودار ہوئیں۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آخر تصوف کی صحت پر اتنا اصرار کیوں، جب ایک نظریہ، ایک عقیدے کا وجود دور نبویﷺ سے ثابت نہیں تو صرف اس بناء پر کہ متاخرین نے اسکو تزکیہ نفس کے ایک بدعی طریقہ کے طور پر رائج کرلیا، اسکو حق ثابت کیا جائے کچھ مناسب بات نہیں اور صرف یہی وجہ ہے کہ تصوف پر آکر تان ٹوٹتی ہے کہ ایک تو اسکا دور نبویﷺ میں کوئی وجود نہیں اور پھر بعد کے ادوار میں جب یہ در آیا تو تب بھی اسکے خیر سے زیادہ اسکا شر اثرانداز ہوا۔جب انفاس العارفین کی شکل میں شاہ ولی اللہ، عبقات کی شکل میں شاہ اسمعٰیل شہید اور امداد المشتاق  کی شکل میں اشرف علی تھانوی کی تعلیمات تک کو تصوف نے الحاد سے آلودہ کردیا تو پھر ان پڑھ عوام کی اوقات ہی کیا۔ جب یہ مذکورہ حضرات عالم باعمل ہوکر تصوف کے گندے اثرات سے اپنا دامن نا بچا سکے تو پھر آپ اور ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔کسی صاحب نے یہ مشورہ دیا کہ شاہ ولی اللہ کی موحدانہ تعلیمات کے زیر اثر اس بات کو راجح مان لینا چاہیئے کہ انفاس العارفین اور درثمین میں پیش کئے گئے الحادی نظریات دراصل الحاقی ہیں لیکن اس الزام سے آپ ماضی قریب کے علماء جیسے اشرف علی تھانوی وغیرہ کو کیسے بچائینگے۔ ان کی تحریرات کی صحت سے متعلق تو کوئی کلام ہی نہیں۔

تو پھر کیوں نا یہ کیا جائے کہ تصوف پر ہی لاکر ساری تان توڑ دی جائے اور اسکو اسلام کی سرزمین سے دیس نکالا دے دیا جائے کیونکہ بقول اقبال ’’تصوف اسلام کی سرزمین میں اجنبی پودہ ہے‘‘ اور میری نظر میں اسکی مثال کھیتوں میں از خود اگ آنے والی ان ناپسندیدہ جڑی بوٹیوں کی سی ہے جن کو اناج دینے والی فصل کے بچاؤ کے لئے اکھاڑ کر پھینکنا ضروری ہوتا ہے۔ اور اگر الفاظ سخت نا لگیں تو مجھے کہنے دیجئے کہ بریلوی مکتب فکر میں جس قدر الحادی نظریات کی آمیزش ہوئی ہے، اسکا سارا کا سارا سہرا تصوف کے ہی سر ہے۔

تصوف اگر احسان و تزکیہ کے سنن طریقوں تک محدود و محصور رہے تو ہمیں کوئی تعارض نہیں لیکن جہاں وہ آگے بڑھ کر شریعت کو لگامیں ڈالنے کی کوشش کرے گا، ہم اسے رد کرینگے۔ ولی و بزرگ صرف وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو اور اسکی خشیت اور اتباع کے تحت جنت کے حصول کی کوشش میں نیک اعمال سرانجام دے۔ جو بزرگ اللہ کو نخرے دکھا کر اپنے مریدوں کو زبردستی جنت میں لے جانے کا دعویدار ہو وہ ولی اللہ نہیں ولی الشیطان ہے۔ اللہ کے آگے تو کسی مقرب فرشتے و برگزیدہ نبی کی مجال نہیں کہ اس کے اذن کے بغیر اسکی جناب میں کسی کی سفارش کرسکے۔ چہ جائیکہ یہ خود ساختہ بزرگ جو اللہ کو لاڈ دکھا دکھا کر اپنے گنہگار مریدوں کو جہنم سے نجات کا پروانہ دیتے پھرتے ہیں۔ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور چودہ سو صحابہ کے لئے چند قدم کے فاصلے پر کعبہ چل کر نہ جاسکا تو کسی ولیہ کی اوقات و حیثیت ہی کیا کہ اس کے دیدار کے لئے کعبہ سینکڑوں میل دور جنگلوں میں گشت لگاتا پھرے۔ علی ہجویری کی کشف المحجوب سے لیکر شاہ ولی اللہ کی انفاس العارفین تک ساری کتابیں اس لائق ہیں کہ دریا برد کردی جائیں۔ احسان و تزکیہ کی تعلیمات کے لئے قرآن کریم و حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ ہی کافی ہے، اسکے بعد بھی کسی کو زہد کی مزید منازل طے کرنے کی حاجت ہو تو اسکے لئے محدثین کی مدون کردہ کتاب الزہد کافی ہیں۔ تصوف اگر دور صحابہ رض کے احسان و زہد کا نام ہے تو اسکی جگہ ہمارے سر آنکھوں پر ہے لیکن اگر یہ متاخرین کی خلاف شریعت بدعی و راہبانہ تعلیمات کا سرچشمہ ہے تو ہم اسے ٹھوکروں پر رکھتے ہیں۔

تحریر: محمد فھد حارث

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا