کچھ دنوں سے دنیا لاک ڈاؤن ہوئی ہے
کچھ دنوں سے دنیا لاک ڈاؤن ہوئی ہے تو سوچیں سفر کرتے ہوئے " شعب ابی طالب کی گھاٹی " کی طرف چلی گئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بنی ہاشم کے گھرانہ کو " تین سال " کے لیئے لاک ڈاؤن کا سوچ کر دل رو پڑا ۔
سوچیں دل کے سینے پہ سینہ کوبی کرنے لگیں ۔میرے نبی کو تین سال کے لیئے لاک ڈاؤن کیا گیا اس طرح کہ نا تو کوئی کھانے کی چیز ان کو پہنچ پاتی نا ہی کوئی خرید و فروخت ممکن تھی۔
حتی کہ کفار مکہ کسی کو بنی ہاشم سے بات تک نا کرنے دیتے تھے معصوم بچے بھوک سے بلکتے اور رسول اللہ راتوں کو بستر زمیں پر دکھ سے کروٹیں بدلتے رہتے کبھی درختوں کی جڑیں کھائی جاتی تو کبھی پتوں سے پیٹ کو بھرا جاتا ۔حضرت خدیجہ جو بڑے نازو میں پلی تھی، بیمار ہو گئیں ۔ بھوک اور بیماری سے یہ حالت ہو گئی کہ گھاٹی سے نکل کر جنابِ سیدہ کا انتقال ہو گیا ۔
اس سارے پس منظر میں رسول اللہ کی استقامت اور عبادات میں کمی کی بجائے اضافے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
آج آپ لاک ڈاؤن ہیں کیوں نا رسول اللہ کی سنت سمجھ کر اس لاک ڈاؤن کو اپنے ایمان کی مضبوطی اور اللہ سے تعلق کو مضبوط تر بنانا کے لیئے استعمال کیا جائے ۔رسول اللہ کا فرمان ہے جب تمھیں زیادہ دکھ آئیں تو میرے دکھ یاد کر لیا کرنا ۔
لاک ڈاؤن میں اپنے اردگرد نظر رکھیں اور سنت ابو بکر پوری کیجئیے یقین کیجیئے گا اگر آپ نے ایک بھوکے پیاسے کو سیراب کر دیا تو ساقی کوثر آپ کو پیاسے نا لوٹائیں گے ۔
کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر
Comments
Post a Comment