سلطان محمود غزنوی کے پاس کوئی شخص ککڑی لے کر حاضر ہوا۔۔

سلطان محمود غزنوی کے پاس کوئی شخص ککڑی لے کر حاضر ہوا۔۔۔۔۔ سلطان نے ککڑی قبول فرمائی اور پیش کرنے والے کو انعام دیا۔۔۔
پھر اپنے ہاتھ سے ککڑی کی ایک پھانک کاٹ کر ایاز کو عطا فرمائی۔ایاز مزے لےلے کر وہ تمام پھانک کھا گیا۔۔
پھر سلطان نے دوسری پھانک کاٹی اور خود کھانے لگا۔۔۔۔ وہ اتنی کڑوی تھی کہ زبان پر رکھنا مشکل تھا۔۔۔۔ سلطان نے حیرت سے ایاز کی طرف دیکھا اور فرمایا۔۔۔۔۔۔
"۔۔۔۔۔ایاز اتنی کڑوی تو کیسے کھا گیا کہ تیرے چہرے پر ناگواری کے ذرہ بھر اثرات نمودار نہ ہوئے۔۔۔۔"
ایاز نےعرض کیا:۔۔۔۔۔۔
 حضور ککڑی واقعی بہت کڑوی تھی۔۔۔  منہ میں ڈالی تو عقل نے کہا کہ تھوک دے مگر دل نے کہا، ایاز خبردار! یہ وہی ہاتھ ہیں جن سے روزانہ میٹھی اشیاء کھاتا رہا ہے۔۔۔۔ اگر ایک دن کڑوی چیز مل گی تو کیا تھوک دے گا،اس لیے کھا گیا۔۔۔۔۔۔
یہی مسلمان کی شان ہونی چاہیے کہ جس اللہ نے انسان پر لاتعداد احسانات فرمائے، اگر کبھی اس کی طرف سے کوئی مصیبت آجائے تو اسے خندہ پیشانی سے قبول کرلے۔۔۔۔۔
یہی محبت کا تقاضا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو اس سے جھگڑے بھی ہوا کرتے ہیں۔ ناراضی بھی ہوا کرتی ہے۔ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لینا اور یوں سوچنا کہ محبت کرنے والے ایسے نہیں ہوتے وہ تو محبت دکھاتے ہیں۔ یاد رکھیے بندہ غصہ بھی اسی پر کرتا ہے جسکو وہ اپنا مانتا ہو تا کہ وہ یہ غلطی دوبارہ نا کرے اور ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہو جاۓ۔۔۔
یوں دوری اختیار کرنا اور بات تک کرنا گوارہ نا کرنا شاید آپکے لیے نقصان دہ اور کہی ایسا نا ہو کہ ہمیشہ کے لیے اس شخص کو کھودے یا پھر وہ محبت اور قربت حاصل نا ہو جو پہلے تھا۔۔۔ لہذا وقت گذرنے سے پہلے اس کو منا لینا ہی عقلمندی اور محبت کا ثبوت ہے۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

مومند ‏قبائل ‏ایک ‏مشہور ‏اور ‏تاریخی ‏قبیلہ ‏ھے ‏۔

ابن البار نیک بیٹا کہا جاتا ہے

چین کا بھارت کو منہ توڑ جواب، لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا