تاتاری شہزادے ”تغلق تیمور” کو شکار کا بہت شوق تھا
تاتاری شہزادے ”تغلق تیمور” کو شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک شکار کے دوران اُس کی ملاقات ایران کے رہنے والے عالم دین شیخ جمال الدین سے ہوگئی۔
اتفاق سے شیخ ایک شاہی شکار گاہ میں داخل ہو چکے تھے۔تاتاری شہزادے کو مفتوح قوم کے کسی فرد سے کیا دل چسپی ہو سکتی تھی۔ اس لیے شہزادہ بڑے اندازِ نخوت کے ساتھ شیخ سے گویا ہوا.
”تم ایرانیوں سے توایک کتا بھی اچھا ہے.
شیخ جمال الدین جانتے تھے کہ ان کا سامنا ایک بے رحم شہزادے سے ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے رنگ میں بھنگ ڈال دی گئی ہے۔
وہ ایک نڈر اور بہادر انسان تھے۔ چاہتے تو اسلام کے نام پر جذباتی ہو کر مغرور شہزادے کو توہین کا منہ توڑ جواب دے سکتے تھے، لیکن وہ انتہائی عقل مند اور مو قعے کی نزاکت کو سمجھتے تھے۔
انہوں نے اپنی ذات کا دفاع کرنے کے لیے اسلام کی ڈھال استعمال کرنے کے بجائے خود کو اسلام کی حفاظت کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور شہزادے کے نفرت انگیز رُویے کے جواب میں بہت سلیقہ مندی کے ساتھ ”اسلام کے سپاہی” کے انداز میں بولے:
”اگر ہمیں سچا دین نہ ملا ہوتا تو یقینا ”ہم کتے سے بھی زیادہ بُرے ہوتے.
تاتاری شہزادہ تھا تو وحشی اور بے رحم… لیکن اس کا دل منافقت سے پاک تھا۔ شیخ کے اس جملے نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس نے شیخ کا سر قلم کرنے کا فیصلہ کرنے کے بجائے حکم دیا.
”اس ایرانی کو شکار کے بعد پیش کیا جائے!”
شکار سے فارغ ہوتے ہی شہزادے نے شیخ کو طلب کیا۔ شیخ کے آتے ہی اس نے تمام لوگوں کو خیمے سے باہر جانے کا حکم دیا، پھر بولا.
”اے ایرانی! یہ بتاؤ کہ تمہارا دین کیا ہے، جس پر تمہیں اتنا ناز ہے؟”
شیخ اسی بہادری اور اعتماد سے بولے:
”شہزادے! ہمارا دین مجھے، تمہیں، اس دنیا کے ہر انسان کو یہ بتاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے، ہر انسان نے مر جانا ہے اور مر کر اپنے رب کے سامنے پیش ہونا ہے۔ پھر اس کا رب اس سے پوچھے گا .
کہ تم نے زندگی اچھے انسان کی طرح بسر کی یا برے انسان کی طرح؟ اگر وہ برا انسان ہوا تو اسے کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا اور اگر وہ اچھا ہوا تو اسے دل پسند زندگی نصیب ہوگی.
شہزادے کے لیے دین کی یہ تشریح بڑی سادہ، صاف اور کچھ ایسی تھی، جو دل کی دھڑکن بن جائے۔ اس نے کہا:
”اے شیخ! مجھے اپنے دین کے بارے میں تفصیل سے بتاؤ.
شیخ نے اسے اسلام کے متعلق مزید بتایا۔ پھر اس کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دیا۔ اس گفتگو نے تغلق شہزادے کے ظالم دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اگر مَیں نے اسلام قبول کر لیا تو مَیں کبھی بادشاہ نہیں بن سکوں گا۔
مگر شیخ کی سلیقہ شعار دعوت کے زیرِ اثر شہزادے کے ضمیر نے کہا کہ اگر تم سچے دین کے بغیر مر گئے تو کیا ہوگا؟ تب وہ کچھ سوچ کر بولا.
”اے شیخ! اگر مَیں اس وقت ایمان لے آیا تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر مَیں نے بادشاہ بننے کے بعد اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو ساری رعایا مسلمان ہو جائے گی۔ مَیں دل سے اسلام قبول کرتا ہوں، لیکن اس کا اعلان بادشاہ بننے کے بعد کروں گا۔” شیخ جمال الدین نے شہزادے کے فیصلے کو درست قرار دیا۔ پھر شہزادہ بولا.
”اے بزرگوار.اب آپ جایئے اور جب مَیں تخت پر بیٹھوں تو بے دھڑک میرے پاس چلے آیئے اور میرا وعدہ مجھے یاد دلایئے
Comments
Post a Comment